021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ضاد کو ظاءیا دال پڑھنے کا حکم
..علم کا بیانتجوید کے مسائل

سوال

اگر کوئی غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین میں ضادکے ادا کرنے پر قادر نہ ہو،اور ضاد کو مشابہ بالدال یا مشابہ بالظاء پڑھتا ہو، تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس طرح پڑھنے سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟؟

o

ضاد ، دال اور ظاءتینوں کا مخرج الگ الگ ہے، ان کو آپس میں بالقصد خلط کرنا جائز نہیں۔ البتہ جو حضرات ضاد کی ادائیگی پر قادرنہیں وہ حتی الوسع صحیح ادا ئیگی کی کوشش کرتے رہیں، اور پھر بھی اگر اس میں ظاء یا دال کی مشابہت پیدا ہونے کا شبہ ہو تو وہ معاف ہے۔ اس سے ان کی نماز فاسد نہ ہوگی،نماز صحیح ادا ہو جائے گی۔ القرآن [البقرة/286]

حوالہ جات

"لَا يُكَلِّفُ اللہ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔۔۔الخ" رد المحتار - (ج 4 / ص 486) "وفي خزانة الأكمل قال القاضي أبو عاصم : إن تعمد ذلك تفسد ، وإن جرى على لسانه أو لا يعرف التمييز لا تفسد ، وهو المختار" رد المحتار - (ج 4 / ص 486) "قال في الخانية والخلاصة : الأصل فيما إذا ذكر حرفا مكان حرف وغير المعنى إن أمكن الفصل بينهما بلا مشقة تفسد ، وإلا يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد المعجمتين والصاد مع السين المهملتين والطاء مع التاء قال أكثرهم لا تفسد" إحكام الأحكام في تجويد القرآن - (ج 1 / ص 34) المخرج الثامن : إحدى حافتي اللسان مع ما يحاذيها من الأضراس العليا ويخرج منه حرف الضاد فقط .
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔