021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلم کی کمپنی میں ملازمت کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانکفار کے ساتھ معاملات کا بیان

سوال

ایسی کمپنیاں جن کے مالکان غیر مسلم ہوتے ہیں ،ان میں ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

o

غیر مسلم کی کمپنیوں میں ملازمت کرنا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے: 1. وہ ملازمت با عزت ہو ،اس میں مسلمان کی تحقیر نہ ہو۔ 2. کسی دینی نقصان کا اندیشہ نہ ہو،مثلا ً وہ اپنے باطل عقائد پر مجبور نہ کرتے ہوں یا دیگراحکامات مثلا ً نماز وغیرہ میں رکاوٹ نہ پیدا کرتے ہوں ۔ 3. وہ کمپنی جائز کاروبار کرتی ہو،یعنی شراب ،خنزیر کا گوشت وغیرہ فروخت نہ کرتی ہو۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (ج 9 / ص 364) "ولو استأجر ذمي مسلما ليخدمه ذكر في الأصل أنه يجوز وأكره للمسلم خدمة الذمي أما الكراهة فلأن الاستخدام استذلال فكأن إجارة المسلم نفسه منه إذلالا لنفسه وليس للمسلم أن يذل نفسه خصوصا بخدمة الكافر" المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 9 / ص 110) "فان استأجر الذمي أو المستأمن مسلما لخدمته حرا أو عبدا فهوجائز ولكن يكره للمسلم خدمة الكافر لما فيه من معنى الذي وليس للمؤمن أن يذل نفسه ولكن هذا النهى لمعنى وراء ما به يتم العقد وان استأجر المسلم ذميا أو مستأمنا لخدمته كان جائزا ولكن لا ينبغى أن يستخدمه في أمور دينه من أمر الطهور ونحوه" بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (ج 9 / ص 364) "ولو استأجر ذمي مسلما ليخدمه ذكر في الأصل أنه يجوز وأكره للمسلم خدمة الذمي أما الكراهة فلأن الاستخدام استذلال فكأن إجارة المسلم نفسه منه إذلالا لنفسه وليس للمسلم أن يذل نفسه خصوصا بخدمة الكافر"
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔