021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایزی پیسہ کا کاروبار
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

ایزی لوڈ کے ساتھ ساتھ ایزی پیسہ کا کاروبار اگر کیا جائے تو یہ درست ہے؟؟کیسے ،اسکی تفصیل بیان کردیں؟؟؟

o

رقم بھیجنے کیلئے ”ایزی پیسہ“کا کاروبار شرعاًدرست ہے،کیونکہ اس میں فقہی اعتبارسےدومعاملےوجودمیں آتےہیں: اول:کسٹمرکمپنی کوقرض دیتاہےاوربغیرکسی کمی زیادتی کےدوسری جگہ اس کانائب اس سےوصول کرتاہے۔ دوم :کمپنی فارم بھرنے،ریکارڈتیارکرنے،مطلوبہ جگہ رقم فراہم کرنےاوردیگرخدمات کےسلسلےمیں اجرت وصول کرتی ہے، اس لئےاصل رقم کےاعتبارسےیہ معاملہ قرض ہے، لیکن محنت اور اجرت کےاعتبارسےاجارہ، لہٰذا دونوں معاملے اپنی اپنی شرائط کےپائےجانےکی بناء پردرست ہیں،اس لئےایزی پیسہ کا کاروبار اور اس کے ذریعہ رقم کی منتقلی شرعاًجائزہے،جیسا کہ منی آرڈر یا پے آرڈرکے ذریعہ رقم بھیجنا شرعاً جائز ہے۔

حوالہ جات

الهداية (3/ 233): “وإن استأجره ليذهب بكتابه إلى فلان بالبصرة ويجيء بجوابه فذهب فوجد فلانا ميتا فرده فلا أجر له " هذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف. وقال محمد: له الأجر في الذهاب؛ لأنه أوفى بعض المعقود عليه، وهو قطع المسافة، وهذا لأن الأجر مقابل به لما فيه من المشقة دون حمل الكتاب لخفة مؤنته. . . . . وإن ترك الكتاب في ذلك المكان وعاد يستحق الأجر بالذهاب بالإجماع"؛ لأن الحمل لم ينتقض. الفقه الإسلامي وأدلته (5 / 331) ويتم التعبير عن هذا القرض بتسليم المقرض وَصْلاً (وثيقة) يثبت حقه في بدل القرض، ويكون المقترض وهو الصراف أو البنك ضامناً لبدل القرض، ولكنه يأخذ أجراً أو عمولة على تسليم المبلغ في بلد آخر مقابل مصاريف الشيك أوأجرة البريد أو البرقية أو التلكس فقط، لتكليف وكيل الصراف بالوفاء أو السداد... وأما الحوالة البريدية في داخل الدولة بدون صرافة فجائزة بلا خلاف
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔