021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیلی نار ایزی پیسہ اکاونٹ
..سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولنے کا کیا حکم ہے؟؟ہوتا یہ ہے کہ ہم دو ہزار لیکر اکاؤنٹ میں جمع کرتے ہیں اور اکاؤنٹ کھولتے ہیں اور دو ہزار جو شخص جمع کرکے رکھتا ہے اسکی رقم مفت میں ایزی پیسہ کرتے ہیں اور بلز بھی مفت جمع ہوتے ہیں اور فری منٹس اور فری ایس ایم ایس بھی ملتے ہیں اسی لیے بہت سے لوگ یہ اکاونٹ کھولنے آتے ہیں؟؟

o

ٹیلی نار کمپنی کی مذکورہ آفر لینا جائز نہیں، کیونکہ کمپنی کا دوہزار روپے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروانا قرض ہے اور اسے برقراررکھنے کی شرط پر کسٹمرکو رقوم کی مفت منتقلی کی سہولت،اور بلزمفت جمع کرنے کی سہولت اور مفت منٹس (free minutes) اور مفت میسج(free sms)کی سہولت دینا،شرعاً قرض پر مشروط نفع ہے،اور قرض پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا،دینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،لہٰذا کمپنی سے اس طرح دو طرفہ معاملہ کرنا جائز نہیں،البتہ اگر گاہک کو مطالبے کا حق نہ ہو اور یہ منفعت و خدمات محض کمپنی کی مرضی پر ہوں تو لینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

في اعلاء السنن- (١٣/٦٤٤٦) عن علي امير المؤمنين مرفوعاً ‘‘کل قرض جر منفعة فهو ربا’’ اخرجه ابن ابي اسامة في سنده قال الشيخ حديث حسن لغيره،کذا في ‘‘العزيزي’’ وفي سنده سوار بن مصعب وهو متروک قلت ولما رواه شواهد کثيرة کما سيأتي، ولاجل ذلک صححه امام الحرمين کما في ‘‘التلخيص’’ ايضاً حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (5 / 166) [مطلب كل قرض جر نفعا حرام] (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروط
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔