021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری پارک کو ذاتی استعمال میں لانے کاحکم
..غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

ہمارے علاقے میں ایک سرکاری پارک ہے،کئی عرصہ سے اس کی دیکھ بھال نہیں ہوئی جس کی وجہ سے وہ اجڑ چکا ہے۔ ایک صاحب نے اس پارک پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے اس میں گندا پانی کھڑا رہتا تھا، میں نے اس کو صاف کیا ہے۔ اب اس میں سبزی اگاؤں گا۔اس سے یہ پاک صاف رہے گا اور علاقے سے گندگی دور ہوگی۔ ان کا ایسا کرنا کیسا ہے؟

o

سرکاری پارک کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں۔ یہ غصب کے حکم ہے۔کسی زمین پر ناحق قبضہ کرنے پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ایک حدیث میں ہےکہ جو شخص کسی زمین پر ناحق قبضہ کرے گا تو قیامت کے دن اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس زمین کی مٹی کو میدان محشر میں اٹھا کر لائے۔ اگر حکومت کی طرف سے پارک کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تو علاقے والوں کو چاہیے کہ وہ خود پارک کی صفائی کا خیال رکھیں۔ لیکن کسی کا اس طرح کرنا کہ پارک صاف کرنے کے بہانے اس پر قبضہ کرنا شرعاً درست نہیں۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5 / 1979): وَعَن يعلى بن مرّة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا الْمَحْشَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔