021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہدیہ سے متعلق ایک مسئلہ/والد نے بیٹے کومکان کی قیمت میں سے متعین رقم بہنوں کوہدیہ کرنے کاوکیل بنایاتوکیافیصدی حصہ لے سکتے ہیں یامتعین رقم لیناضروری ہے؟
61037ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ہمارےوالد نےاپنی طبعیت ناسازہونے کی وجہ سے1994 میں ایک گھر(جس کی قیمت اس وقت کی مالیت کے حساب سے 120000روپےتھی ) اتفاق باہمی ہمارےبھائی کے نام پررجسٹرکروادیا اورقبضہ بھی دیدیا،دیگرگواہان کے سامنےان کوتاکیدکردی کہ چاربہنوں کوفی کس 20000 روپےضرورت پراداکردیں ،بھائی نے اس گھرمیں رہناشروع کردیا،وراثت کے حصےکی رقم کاتقاضہ ہم بہنوں میں سے کسی ایک نے بھی ابھی تک نہیں کیا،اتنے سال گذرنے کےبعدہم چاربہنوں کوفی کس50000 روپے دئیے ہیں،توکیاہمیں فی کس 20000 روپے لینے چاہیے یاہم 50000روپے بھی رکھ سکتی ہیں یاپھرہماراحصہ آج جوگھر کی قیمت ہوگی اس کے مطابق ہوگا۔ تنقیح:فون پرسائل نے بتایاکہ اس وقت گھرکی قیمت لگائی گئی اوراس مکان کوفروخت کرنے کاارداہ تھا،جس پربھائی نے کہاکہ میں خریدلیتاہوں چناچہ مکان ایك لاکھ بیس ہزارروپےمیں اس کوفروخت کردیاگیا،چالیس ہزارروپے مکان کی قیمت سے اس کے حصے کے منہاکرلئے گئےاوراس مکان کے فروخت ہونے کے دوسال بعدوالدصاحب کاانتقال ہوا۔

o

میراث کےاحکام میت کےاس مال میں جاری ہوتےہیں جومال اس نے موت کے وقت اپنی ملکیت میں چھوڑاہواورجومال اس نے اپنی زندگی میں کسی کودیدیاہو یافروخت کردیاہواس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوتے،لہذاصورت مسؤولہ میں جب والدنے بیٹے کواپنی زندگی میں مکان فروخت کردیاتھاتویہ مکان اس کی ملکیت سے نکل کربیٹے کی ملک میں چلاگیاتھااوروالدکاحق اس کی قیمت سے متعلق ہوگیاتھا،اس کےبعدجب انہوں نے بہنوں کو سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق رقم دینے کاحکم جاری کیاتھاتویہ شرعی طورپر ان کی طرف سے رقم کاہدیہ تھا جوبیٹے کوقبضہ کروانےکاوکیل بنانے سے مکمل ہوگیاتھا ،لہذاصورت مسؤولہ میں ہربہن 20000 روپےلینے کی مجازہے اوریہ الگ مسئلہ ہےکہ بھائی کویہ رقم اسی وقت دینی چاہیے تھی ،لیکن اگرکسی وجہ سے نہ دے سکاتوشرعی طورپرہربہن مذکورہ رقم لینے کی حق دارہے لیکن اگربھائی قرابت داری اوررشتہ داری کے ناطے مزیدرقم دیتاہے توبہنیں یہ رقم بھی لے سکتی ہیں۔

حوالہ جات

....
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔