021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرایہ دارسے چیز ہلاک ہوجائے تو ضمان اور کرایہ میں سے کیا لازم ہوگا؟
70254غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

 اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کوکرایہ پر کچھ سامان دےاوراس شخص سےوہ سامان ہلاک ہوجائےتوایسی صورت میں کرایہ دارپر کرایہ اورتاوان دونوں آئیں گے یا کہ صرف تاوان لازم ہوگا؟بینو توجروا۔

o

اگروہ چیز کرایہ دار کےمجازاورمعتاد استعمال کے بعد یا اس استعمال کےدوران ضائع ہوئی ہو،لیکن اس چیز کے ضائع ہونے میں کرایہ دار کے تعدی (زیادتی،کوتاہی اور غفلت )یا اس کےغیرمجازوغیرمعتاد عمل یا استعمال   کا دخل نہ ہوتو ایسی صورت میں صرف مدت استعمال کے بقدر کرایہ لازم ہوگا اور اگر اس کے ضائع ہونے میں کرایہ دار کی زیادتی ،غفلت ،کوتاہی یا غیرمجازوغیرمعتاد عمل یااستعمال کا دخل بھی ہو تو ایسی صورت میں بقدر مدت استعمال کرایہ کے علاوہ تاوان بھی لازم ہوگا۔(ماخوذازفتاوی محمودیہ:ج۱۶،ص۵۲۸)

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 112)
(المادة 600) المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن.
(المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.
(المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها.
(المادة 603) حركة المستأجر على خلاف المعتاد تعد ويضمن الضرر والخسارة التي تتولد معها مثلا لو استعمل الثياب التي استكراها على خلاف عادة الناس وبليت يضمن كذلك لو احترقت الدار المأجورة بظهور حريق فيها بسبب إشعال المستأجر النار أزيد من الناس يضمن.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸صفر۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔