021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک طلاق کےبعدمیاں بیوی ساتھ رہناچاہتےہیں
70409طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 میں  اورمیری بیوی اب تقریبا ایک سال 8ماہ بعد دوبارہ اپنی رضامندی سےنکاح کرناچاہتےہیں،جس کےلیےآپ کےلکھےہوئےفتوی کی ضرورت ہے،کیونکہ میں نےاپنی بیوی کو 19/02/2019کوایک طلاق دی،جس کےبعدوہ آپس میں رجوع نہ کرسکےاورکچھ خاندانی رشتوں نےاس کواورخراب کردیا،مگراب ہم دونوں اپنی رضاء سےاپنےبچوں کےلیےدوبارہ نکاح کرناچاہتےہیں،جس کےبارےمیں آپ تحریری طورپرلکھ دیں،مہربانی ہوگی۔والسلام

o

صورت مسئولہ میں حلف نامہ کےمطابق ایک طلاق بائن واقع ہوچکی تھی،چونکہ طلاق بائن کےبعددوبارہ نکاح ہوسکتاہے،اس لیےموجودہ صورت میں اگرمیاں بیوی دونوں راضی ہیں،اوردوبارہ گھربساناچاہتےہیں،توباہمی رضامندی سےنئےمہرکےساتھ ایسی مجلس نکاح میں،جس میں کم ازکم دوگواہ موجودہوں،دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے۔اس طرح نکاح کےبعدیہ عورت آپ کی دوبارہ بیوی بن جائےگی،اورآئندہ آپ کوصرف دوطلاقوں کااختیارباقی رہےگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار " 11 /  113:
 إذا وصف الطلاق بضرب من الشدة والزيادة يقع به البائن كما مر عن الهداية۔
"الهداية" 1 / 257:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوج في العدة وبعد انقضائها لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

15/ربیع الاول  1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔