021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بارات کے جوڑے کی قیمت وصول کرنا
70423نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

ہماری بیٹی کی بات پکی ہوئی تھی، پھر کچھ ناچاکی کی وجہ سے بات ختم کر دی گئی، دراصل بات یہ طے ہوئی تھی کہ بارات اور ولیمے کا جوڑا لڑکے والے بنا کر دیں گے، انہوں نے رقم کی صورت میں دونوں جوڑوں کی قیمت دے دی اور کہا آپ لوگ اپنی مرضی سے بنوا لیں، ہم نے رقم لے کر کپڑے تیار کروانے کے لیے دے دیے، اب ولیمہ کا جوڑا تیار نہیں ہوا تھا، اس لیے ہم نے آرڈر کینسل کر دیا، بارات کا جوڑا تیار ہو چکا تھا، اس لیے وہ جوڑا لے  کر ہم نے لڑکے والوں کو واپس کر دیا اور ولیمے کے جوڑے کے پیسے واپس کر دیے، اس كے ساتھ انہوں نے عیدی اور بات پکی ہونے پر جو کچھ بچی کو  دیا تھا سب کچھ ہم نے  واپس کر دیا، انہوں نے وہ سب کچھ رکھ لیا، مگر ولیمے کا جوڑا ہمیں واپس کر دیا اور کہا کہ ہمیں اس جوڑے کے پیسے دو۔اس جوڑے پر صرف کام ہوا ہے، ابھی سلا ئی نہیں ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جوڑا ان کے کہنے پر تیار کیا گیا تھا، کیا اب ان کا قیمت کا مطالبہ کرنا درست ہے؟  ہماری بیٹی کی بات پکی ہوئی تھی، پھر کچھ ناچاکی کی وجہ سے بات ختم کر دی گئی، دراصل بات یہ طے ہوئی تھی کہ بارات اور ولیمے کا جوڑا لڑکے والے بنا کر دیں گے، انہوں نے رقم کی صورت میں دونوں جوڑوں کی قیمت دے دی اور کہا آپ لوگ اپنی مرضی سے بنوا لیں، ہم نے رقم لے کر کپڑے تیار کروانے کے لیے دے دیے، اب ولیمہ کا جوڑا تیار نہیں ہوا تھا، اس لیے ہم نے آرڈر کینسل کر دیا، بارات کا جوڑا تیار ہو چکا تھا، اس لیے وہ جوڑا لے  کر ہم نے لڑکے والوں کو واپس کر دیا اور ولیمے کے جوڑے کے پیسے واپس کر دیے، اس كے ساتھ انہوں نے عیدی اور بات پکی ہونے پر جو کچھ بچی کو  دیا تھا سب کچھ ہم نے  واپس کر دیا، انہوں نے وہ سب کچھ رکھ لیا، مگر ولیمے کا جوڑا ہمیں واپس کر دیا اور کہا کہ ہمیں اس جوڑے کے پیسے دو۔اس جوڑے پر صرف کام ہوا ہے، ابھی سلا ئی نہیں ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جوڑا ان کے کہنے پر تیار کیا گیا تھا، کیا اب ان کا قیمت کا مطالبہ کرنا درست ہے؟  

o

صورتِ مسئولہ میں آپ لوگ دراصل لڑکے والوں کی طرف سے بارات کا جوڑا تیار کرنے کے وکیل تھے، کیونکہ یہ جوڑا لڑکے والوں کے کہنے پر تیار کیا گیا تھا اور شرعی نقطہٴ نظر سے وکیل کا (فعل) کام اس کے موکل کی طرف منسوب ہوتاہے، اس لیے لڑکے والوں کو صرف یہ جوڑا لینے کا حق حاصل ہے، اس کے علاوہ لڑکے والوں کا یہ مطالبہ کرنا کہ ہمیں اس جوڑے کی قیمت ادا کی جائے، درست نہیں۔ البتہ اگر آپ لوگ اپنی مرضی سے یہ جوڑا خود رکھنا چاہیں تو اس صورت میں آپ لوگوں کے ذمہ اس جوڑے کی قیمت ادا کرنا لازم ہو گا۔

 

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (19/ 97) دار المعرفة – بيروت:
ولو قال أعتقه على هذا العبد فأعتقه عليه فإذا هو حر جاز العتق وعليه قيمة نفسه لأن فعل الوكيل كفعل الموكل بنفسه حين امتثل أمره فيما صنع۔
المبسوط للسرخسي (19/ 108) دار الكتب العلمية،بيروت:
[باب وكالة العبد المأذون والمكاتب]
قال - رحمه الله - وكل ما جاز لهما أن يفعلاه جاز لهما أن يوكلا به من يفعله لأن الحجر قد انفك عنهما فيما هو من عمل التجارة أو سبب اكتساب المال والتوكيل من هذه الجملة فيصح منهما وبعد صحة الوكالة فعل الوكيل كفعل الموكل بنفسه وكل ما يجوز للموكل أن يفعله جاز لوكيله أن يفعله۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 249) دار الكتب العلمية، بيروت:
 
                                             
 يجب أن يعلم بأن الرجوع في الهبة لا يصح إلا بقضاء أو برضا، إما لأن الرجوع مختلف فيه بين العلماء فكان في أصل ثبوته نوعها، أو لأن فيه قطع الملك على الموهوب له، وقطع الملك على الإنسان من غير قضاء ولا رضا لا يجوز، فقبل قضاء القاضي، وقبل رد الموهوب له الهبة على الواهب باختياره تصرف الموهوب له حصل في ملك نفسه فيصح، وبعد ما قضى القاضي أو رد الموهوب له الهبة بإختياره صار الموهوب ملكاً للواهب فلا يصح تصرف الموهوب له۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

15/ربیع الاول 1442ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔