021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہن بھائیوں کےدرمیان جائیدادکی تقسیم  
70775میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

رحمان منزل فہرست وارثان

مالک رحمان منزل                    :فضل الرحمان خان تاریخ وفات 7اگست 1995

ٹوٹل رقبہ رحمان منزل             :2952 مربع فٹ

فضل الرحمان خان کےوارثوں میں پانچ بیٹےاورایک بیٹی شامل ہیں،جن کےمابین 492مربع فٹ فی کس کےحساب سےان کےوالدنےاپنی زندگی میں تملیک کےذریعہ جائیدادتقسیم کردی تھی۔

چھ بچوں میں سےپانچ بچوں کی وفات ہوچکی ہے۔

ان میں سےخالدرحمان اورتقی الدین اپنااپناحصہ اپنی زندگی میں فروخت کرچکےتھے،اوریہ دونوں صاحب اولاد تھے،جبکہ حامدرحمان اورصلاح الدین کےبیوی بچےنہیں تھے،اورجگہ فروخت کیےبغیروفات پاگئے۔

سعیدہ بیکم صاحب اولاد ہے،کچھ عرصہ پہلےوہ بھی انتقال کرگئی۔

عبدالرحمان مانوخان بھی صاحب اولاد ہیں،اورابھی حیات ہیں۔

وارثین کےنام

تاریخ وفات

جائیدادمیں حصہ

خالدرحمان

24دسمبر2004

492مربع فٹ

حامدرحمان

06نومبر2005

492مربع فٹ

تقی الدین

18اگست 2011

492مربع فٹ

صلاح الدین

27جنوری 2019

492مربع فٹ

سعیدہ بیگم

12مئی 2020

492مربع فٹ

عبدالرحمان مانوخان

ابھی زندہ ہیں

492مربع فٹ

 

حامدخان کی وفات کےوقت ان کےتین بھائی اورایک بہن زندہ تھی،جن کےمابین حامدکےحصے(492مربع فٹ)کی تقسیم شرعی طریقےسےعدالت کےذریعہ ہوگئی تھی۔

تقسیم  اس حساب سےہوئی تھی:

تقی الدین

140مربع فٹ

صلاح الدین

140مربع فٹ

سعیدہ بیگم

70مربع فٹ

عبدالرحمان مانوخان

140مربع فٹ

اب صلاح الدین بھی وفات پاگئےہیں،جن کی بیوی بچےنہیں ہیں، صلاح الدین کےحصے492مربع فٹ اور140 مربع فٹ کی تقسیم ان کےوارثوں کےدرمیان ہونی ہے،ان کےورثہ  میں اس وقت سعیدہ بیگم اوران کےبھائی عبدالرحمان مانوخان شامل تھے،سعیدہ بیگم کابھی کچھ مہینےپہلےانتقال ہوگیاہے۔

صلاح الدین کاجائیدادمیں ٹوٹل حصہ 492=140 + 632فٹ بنتاہے،جس کی تقسیم ورثہ  کےدرمیان ہوئی ہے۔ سوال یہ ہےکہ عبدالرحمان (جوکہ ابھی زندہ ہے) کااس جائیدادمیں ٹوٹل کتناحصہ بنتاہے؟

o

o

صورت مسئولہ میں  عبدالرحمان مانو خان کاجائیدادمیں مجموعی  حصہ1053مربع فٹ ہوگا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

والدصاحب کی طرف سےتقسیم شدہ حصہ

492مربع فٹ

بھائی حامدخان کی طرف  سےوراثت کاحصہ

140مربع فٹ

بھائی صلاح الدین کی طرف سےوراثت کاحصہ

421.333مربع فٹ

مجموعہ

1053.333مربع فٹ

واضح رہےکہ سعیدہ بیگم جو 2020 میں فوت ہوئی توعبدالرحمان مانو خان کاسعیدہ بیگم کی میراث میں حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ سعیدہ بیگم کی وفات کےوقت ان کی اولاد موجود تھی،اولادموجود ہوتوسگابھائی محروم ہوتاہے۔

 

سعیدہ بیگم کامجموعی حصہ درج ذیل تقسیم کےمطابق 772 مربع فٹ بنتاہے۔

والدصاحب کی طرف سےتقسیم شدہ حصہ

492مربع فٹ

بھائی حامدخان کی طرف  سےوراثت کاحصہ

70مربع فٹ

بھائی صلاح الدین کی طرف سےوراثت کاحصہ

210.666مربع فٹ

مجموعہ

772.666مربع فٹ

 سعیدہ بیگم کی وفات کےوقت تمام حصوں کودیکھاجائےگا،اوراس وقت موجود ورثہ کےاعتبارسےمیراث تقسیم ہوگی ۔

سعیدہ بیگم کی میراث باقاعدہ شرعی طریقےکےمطابق تقسیم کےلیےورثہ کی تعداد بھیج دی جائےتودوبارہ جواب دیاجاسکےگا۔

حوالہ جات

"تفسير ابن كثير" 2 / 482:
وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (176)

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

05/جمادی الاولی  1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔