021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر وکیل مؤکل کی مخالفت کرنے کے بعد مرجائے
70922وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنے معاملات سنبھالنے کے لیے ایک منشی رکھا ہوا تھا، جس میں میری اراضی کی خرید و فروخت بھی شامل تھی۔ جب کبھی میرا کوئی پلاٹ فروخت ہوتا تو منشی خریدنے والے سے بات چیت کرکے پیسے ہمیں دے جاتا تھا اور دستخط کرا جاتا تھا۔ اِسی اثناء میں اُس نے میری اجازت اور میرے علم میں لائے بغیر دو سے تین پلاٹ میرے فروخت کرکے جعلی دستخط کردیے اور مجھے اِس بارے میں کوئی علم نہیں تھا ۔ اور جب علم ہوا تو میں نے منشی کے پاس اپنا ایک نمائندہ بھیجا تو منشی نے اِس بات کا اقرار کیا اور کہا کہ میرے پلاٹ پڑے ہیں، میں فروخت کرکے آپ کو قیمت دے دوں گا اور اُس نمائندے سے کہتا کہ میں خود مالک سے بات کرلوں گاوغیرہ۔ اور پھر اِسی دوران منشی کا انتقال ہوگیا۔ واضح رہے کہ لوگوں کو علم تھا کہ یہ منشی میرا نمائندہ ہے اور منشی کی زندگی میں ہی پلاٹ خریدنے والوں کو یہ علم ہوگیا تھا کہ ہماری یہ خرید و فروخت جعلی ہوئی ہے۔ اِس کے باوجود بھی انہوں نے کوئی ردِ عمل نہیں کیا۔ اب دلائل کی روشنی میں یہ پوچھنا ہےکہ میرے اِن پلاٹوں پر جو لوگ مکان بنا کر بیٹھے ہیں ، کیا میں اُن سے وہ پلاٹ یا ان کی قیمت لے سکتا ہوں یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

تنقیحِ سوال: فون پر مستفتی سےمزید استفسار کرنے پر یہ معلوم ہوا ہے کہ جب مالک نے اپنے نمائندے کو پلاٹ کی فروخت کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے منشی کے پاس بھیجا تھا تو منشی نے اِس بات کا اقرار کیا تھا کہ اُس نے مالک کے پلاٹ فروخت کردیے ہیں اور قیمت ادا کرنے کے بارے میں یہ کہا تھا کہ میں اُس کی قیمت اپنے ذاتی پلاٹ فروخت کرکے ادا کردوں گا اور اِس بات پر مالک راضی ہوگیا تھا۔ لیکن اِس کی نوبت نہ آسکی اور منشی مرگیا۔

o

مذکورہ صورت میں منشی نے جب مالک کے نمائندے کو پلاٹ کی قیمت اپنے ذاتی پلاٹ فروخت کرکے ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، جس پر مالک نے رضامندی کا اظہار کردیا تھا تو اِس بنا پر منشی کی جانب سے مالک کی زمین کی بیع درست ہوگئی تھی اور منشی پر مالک کو زمین کی قیمت ادا کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ لہذا اب منشی کے مرنے کے بعد زمین کی قیمت اُس کے ترکہ میں سے ادا کی جائے گی۔

حوالہ جات

قال العلامۃ علي حیدررحمہ اللہ تعالی: نفاذ بيع الغاصب أو بطلانه: إذا ضمن الغاصب بدل المال المغصوب بعد أن باعه لآخر ينفذ بيعه، حيث إن الغاصب يملك المغصوب بطريق الاستناد للضمان المذكور أي يملك المغصوب ملكا مستندا إلى وقت الغصب فلذلك نفذ بيعه لأنه بالاستناد المذكور قد تقدم سبب امتلاك الغاصب للمبيع المغصوب على بيعه إياه.
(درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام: 2/532)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: (قوله ولو حكما) مبالغة على قوله إزالة يد فإن يد المودع يد صاحب الوديعة قبل الجحود وبعده أزيلت يد صاحبها حكما.(رد المحتار: 6/178)
قال العلامۃ رحمہ اللہ تعالی: ومنھا: أنہ أمین فیما في یدہ کالمودع، فیضمن بما یضمن بہ المودع ویبرأ بما یبرأ بہ. (تکملۃ رد المحتار: 11/362)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی: فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث فيبدأ بجهازه وكفنه وما يحتاج في دفنه بالمعروف وفي الكافي من غير تبذير ولا تقتير وفي التهذيب إذا مات الرجل يبدأ من تركته بتكفينه وتجهيزه بالمثل والمثل ما يلبس عند الخروج وقيل في الأعياد وقيل في الجمع والجماعات وهو الأصح، ثم الدين.
(البحر الرائق: 8/557)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

81 جمادی الاولی 1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔