| 70920 | شفعہ کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
اگر ورثہ میں سے دو وارث شفعہ کا حق استعمال کرنا چاہیں تو کیا صورت ہوگی؟ واضح رہے کہ آدھا مکان کاشف صاحب کو فروخت کرنے اور درمیان میں دیوار اٹھاکر بقیہ آدھا مکان کسی اور کو فروخت کرنے کی صورت میں قانونی کاروائی کے اخراجات بھی بڑھیں گےاور اس سے مکان کی ویلیو بھی کم ہوجائے گی اور قیمت کم ملے گی۔
تنقیح: سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سوال کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح کاشف آدھا مکان لینے پر بضد ہے،اگر میں بھی اس طرح یعنی آدھا مکان لینے کا مطالبہ کروں تو کیا یہ درست ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ آپ اور محمد کاشف اس مکان میں فی الحال رہائش پذیر ہیں،اس لیے اگر آپ دونوں مل کر اس مکان کو آدھا آدھا خریدنا چاہیں اور بقیہ ورثہ فروخت کرنے پر راضی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ مذکورہ صورت حال میں اختلاف اور انتشار سے بچنے کا آسان حل یہی ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
18/جمادی الاولی1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


