021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل کمپنی سےموبائل بیلنس خرید کر زیادہ میں بیچنا
72536اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

کسی موبائل کمپنی سےموبائل بیلنس  خرید کر زیادہ میں بیچناشرعا کیسا ہے؟

o

یہ صورت معاملہ  درحقیقت منافع کو خریدنے کے بعد آگے مزیدکسی دوسرے کے ہاتھ بیچنے سے متعلق ہے اور یہ معاملہ اشیاء غیرمنقولہ (زمین مکان،دوکان)میں مطلقا(قبل از قبض وبعد از قبض)اورمنقولہ میں صرف بعد از قبض جائز ہے،خواہ  پہلی اجرت سے کم پر دوسرا عقد اجارہ ہو یاکہ اس کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت پر،لیکن زیادتی کی صورت میں اضافی مقدار کا صدقہ کرنا لازم ہے۔

لہذاعام صارف کاموبائل بیلنس خریدکر لوڈ کرنا در حقیقت ایک عقد اجارہ  ہے،جو کمپنی اور بلینس حاصل کرنے والے کے درمیان بلینس منتقلی کی صورت میں ہوجاتا ہے،لہذا اگر کوئی اس کو استعمال کرنے کے بجائے آگے مزید فروخت کرتا ہے تو یہ عقد اجارہ بھی درست یعنی منعقد ہوجائے گا،لیکن زیادہ قیمت پر فروخت کی صورت میں اضافی مقدار کا صدقہ کرنا لازم ہے،نیزچونکہ اس بارے میں عموم بلوی نہیں پایا جاتالہذا کسی دوسرے مذہب پر عمل کی گنجائش نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 91)
(للمستأجر أن يؤجر المؤجر) بعد قبضه قيل وقبله (من غير مؤجره، وأما من مؤجره فلا) يجوز وإن تخلل ثالث به يفتى للزوم تمليك المالك، وهل تبطل الأولى بالإجارة للمالك؟ الصحيح لا وهبانية.
قلت: وصححه قاضي خان وغيره. وفي المضمرات: وعليه الفتوى، وقدمنا عن البحر معزيا للجوهرة الأصح نعم، وأقره المصنف ثمة، ونقل هنا عن الخلاصة ما يفيد أنه إن قبضه منه بعد ما استأجره بطلب وإلا لا فليكن التوفيق فتأمل؛ وهل تسقط الأجرة ما دام في يد المؤجر؟ خلاف مبسوط في شرح الوهبانية
مطلب في إجارة المستأجر للمؤجر ولغيره.
(قوله للمستأجر أن يؤجر المؤجر إلخ) أي ما استأجره بمثل الأجرة الأولى أو بأنقص، فلو بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين كما مر أول باب ما يجوز من الإجارة (قوله قيل وقبله) أي فالخلاف في الإجارة كالخلاف في البيع، فعندهما يجوز، وعند محمد لا يجوز، وقيل لا خلاف في الإجارة، وهذا في غير المنقول، فلو منقولا لم يجز قبل القبض كذا في التتارخانية (قوله من غير مؤجره) سواء كان مؤجره مالكا أو مستأجرا من المالك كما يفيده التعليل الآتي؛ لأن المستأجر من المالك مالك للمنفعة.
ووقع في المنح عن الخلاصة أن المستأجر الثاني إذا آجر من المستأجر الأول يصح، وقد راجعت الخلاصة فلم أجد هذه الزيادة، وهكذا رأيت في هامش المنح بخط بعض الفضلاء أنه راجع عدة نسخ من الخلاصة فلم يجد ذلك فتنبه (قوله وإن تخلل ثالث) أي بأن استأجر من المستأجر شخص فآجر للمؤجر الأول. (قوله به يفتى) وهو الصحيح وبه قال عامة المشايخ ابن الشحنة. (قوله للزوم تمليك المالك) ؛ لأن المستأجر في حق المنفعة قائم مقام المؤجر فيلزم تمليك المالك منح.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

یکم شعبان۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔