03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناروے میں سائنسی حسابات سے تیار شدہ کلینڈر کے مطابق رمضان و عید ین کرنے کا حکم
72726روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم یہاں ناروے اوسلو میں رہتے ہیں۔ یہاں تقریباً 100 سے زائد مساجد ہیں۔ پہلے ہم رمضان و عیدین سعودی عرب کے اعلان کے مطابق کرتے تھے، چونکہ پہلے یہاں کوئی منظم سسٹم نہیں تھا۔ اب یہاں مسلمانوں کی ایک تنظیم بنی ہے، جس میں تمام مسالک دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور عرب ممالک کے لوگ شامل ہیں اور تمام مسالک والے اپنی مساجد اس اسلامی تنظیم میں رجسٹر کروا رہے ہیں۔ اس تنظیم نے ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلے سے ایک کلینڈر تیار کیا ہوا ہے، جس میں رمضان اور عیدین کے بارے میں پہلے سے بتا دیا ہے کہ رمضان و عیدین اس متعین شمسی تاریخ کو ہیں۔ ہم نے اور چند دوسرے مسالک کے لوگوں نے ابھی تک اپنی چند مساجد رجسٹر نہیں کروائیں۔
براہ مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم بھی اس تنظیم کے ساتھ اپنی مسجد مسلک کر کے انہی کے مطابق رمضان و عیدین کریں یا پھر پہلے سےجیسا ہم سعودی عرب کے اعلان کے مطابق کرتے تھے، ویسے کریں۔ جزاک اللہ خیرا
تنقیح :
تنقیح سے معلوم ہوا کہ یہ تنظیم رؤیت کا اہتمام نہیں کرتی، بلکہ محض سائنسی حسابات سے کلینڈر ربنادیتی ہے، پھر اس کی بنیاد پر رمضان و عیدین کے چاند کا فیصلہ کرتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے رمضان و عیدین کا دار و مدار چاند کی رویت پر رکھا ہے۔ سائنسی حسابات چاند کی رویت میں معاون تو ہو سکتے ہیں، لیکن مدار ان پر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اگر صورت مسئولہ میں یہ تنظیم ہجری کلینڈر بنانے کے ساتھ ساتھ چاند کی رؤیت کا بھی اہتمام کرتی ہو اور چاند کا اعلان رؤیت ہی کی بنیاد پر کرتی ہو ، تو چاند کے مسئلے میں اس تنظیم سے اپنی مساجد کا الحاق کروانا درست ہو گا اور اگر یہ تنظیم چاند کی رؤیت کا با قاعدہ اہتمام نہ کرتی ہو، بلکہ محض حسابات کی بنیاد پر اعلان کرتی ہو، تو ایسے اعلان کا شرعا کوئی اعتبار نہیں۔
لهذارؤیت ہلال کے معاملے میں مساجد کا اس تعلیم سے الحاق کر وانا درست نہ ہو گا۔

ناروے میں اگر چاند آسانی سے نظر آسکتا ہو، یعنی غروب کے وقت مغربی افق کا مطلع صاف مل سکتا ہو تو اہل ناروے کو اپنی رؤیت ہلال کا اہتمام کرنا چاہیے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ رؤیت کو آسان بنانے کی فنی معلومات مثلاً: چاند کی افق سے بلندی، سورج سے دوری ، سورج اور چاند کے غروب میں فرق اوقات اور فنی آلات مثلاد دوربین و غیرہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے، البتہ مدار بنیادی طور پر حقیقی رؤیت پر ہی ہو گا، رؤیت کے امکان یا حسابی رؤیت پر مدار نہیں ہو گا۔

اور اگر چاند آسانی سے نظر نہیں آسکتا تو آپ حضرات کو اختلاف مطالع کے متعلق حنفیہ کے راجح قول کہ اختلاف مطالع معتبر نہیں پر عمل کرتے ہوئے پوری دنیا میں جس علاقے میں درست رؤیت ہوتی ہو، وہاں سے رابطہ کر کے ان کی رؤیت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ جس اسلامی ملک کی رؤیت کے مطابق چلنے کا ارادہ ہو تو :

ا.  وہاں کے علاقے کی کوئی معروف شخصیت جن سے آپ براہ راست واقف ہوں اور آپ کو ان کی آواز میں بھی کوئی دھوکہ نہ لگے اور انہوں نے رویت کے اعلان کو براہ است سنا ہو، تو ان کی خبر پر بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

ب. یا مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے کسی فرد سے جو فیصلے کے وقت موجود تھا، یا کمیٹی کے سربراہ سے براہ راست فون کر کے پوچھ لیا جائے اور وہ رمضان کے اعلان کی تصدیق کر دے۔ بشر طیکہ سابقہ تعارف ، آواز سے واقفیت یا کسی با عتماد واسطے کی بنا پر کسی غلط فہمی کا امکان نہ ہو۔

ج. یا رویت ہلال کے اعلان کو اس ملک کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے براہ ر است سن لیا جائے۔ سعودی عرب میں بھی رؤیت ہلال کے نظام میں نقائص ہیں ۔ وہاں نظام قضاء میں فنِ فلکیات کے مسلمات کو نظر انداز کرنے کی بنا پر بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ لہذا وہاں کی رؤیت پر مدار رکھنادرست نہیں۔

حوالہ جات

روى الإمام البخاري رحمه الله تعالى : عن ابن عمر رضى الله تعالى عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم ، فأكملوا العدة ثلاثين " (صحيح البخاري، كتاب الصوم : 1907)

روى الإمام مسلم رحمه الله تعالى : عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه ذكر رمضان، فقال: "لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه فإن أغمي عليكم؛ فاقدر واله " (صحيح مسلم، کتاب الصيام : 1080)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 273)

"قوله: ويثبت رمضان برؤية هلاله أو بعد شعبان ثلاثين يوما" لحديث الصحيحين "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين يوما"

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى : لا عبرة بقول المؤقتين، ولو عدولا على المذهب. قال في الوهبانية: وقول أولى التوقيت ليس بموجب.

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : قوله : ( ولا عبرة بقول المؤقتين): أي في وجوب الصوم على الناس، بل في المعراج لا يعتبر قولهم بالإجماع، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه. وفي النهر : فلا يلزم يقول المؤقتين أنه أي الهلال يكون في السماء ليلة كذا، وإن كانوا عدولا في الصحيح ... أن الشارع لم يعتمد الحساب، بل ألغاء بالكلية بقوله صلى الله عليه وسلم "نحن أمة أمية، لا تكتب ولا تحسب الشهر هكذا وهكذا"

وعن شمس الأئمة الحلواني: أن الشرط في وجوب الصوم والإفطار الرؤية.

(الدر المختار مع رد المحتار: 387/2)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى : ( و اختلاف المطالع) ورؤيته نهارا، قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ ، وعليه الفتوى، بحر عن الخلاصة (فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب، وقال الزيلعي الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال: الأخذ بظاهر الرواية أحوط. قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره، أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية ... فقيل : بالأول، واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض ... وظاهر الرواية الثاني، وهو المعتمد عندنا، وعند المالكية، والحنابلة، لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث صومو الرؤيته»

(الدر المختار مع رد المحتار: 363,364/3)

عرفان حنیف  بن  محمد حنیف

 فقہ الحلال دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

08/شعبان 1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عرفان حنیف بن محمد حنیف

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب