021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کاحکم
71906جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے؟مثلاً ایک شخص علاج کے لیے یا ملازمت کے لیے دوسرے شہر گیا تھا یا دوسرے شہررہائش پذیر ہوگیا تھا ،اور   وہاں فوت ہوگیا تو کیا ان صورتوں میں میت کو آبائی شہر منتقل کر سکتے ہیں؟

o

میت کوایک جگہ سے  دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ تحریمی ہے،البتہ ایک دو میل کی دوری میں منتقل کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔نقل میت میں تاخیردفن وخطرہ ٔ فساد میت کے علاوہ  مندرجہ ذیل مفاسد بھی پیدا ہوگئے ہیں:

  1. اس کا التزام ہونے لگا ہے ۔
  2. مصارف کثیرہ ومشقت شدیدہ کا تحمل کیا جاتاہے۔
  3. آبائی قبرستان میں دفن کرنے کے التزام اور اس پر اصرار سے یہ عقیدہ ثابت ہوتاہے ،ہ ایک مقام میں دفن ہونے والے اموات کی آپس میں ملاقات ہوتی ہے ،حالانکہ یہ عقیدہ غلط ہے۔
  4. جنازے کو نقل کرنا عموماً نماز جنازہ کے تکرار کا سبب بنتا ہے جو ناجائز ہے۔

نقل میت کا عدم جواز امام محمد رحمہ اللہ سے ثابت ہے اور یہی ظاہر المذہب ہے اور جمہور فقہاء اسی کے قائل ہیں،لہذا  ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 239)
(قوله ولا بأس بنقله قبل دفنه) قيل مطلقا، وقيل إلى ما دون مدة السفر، وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد. قال في النهر عن عقد الفرائد: وهو الظاهر اهـ وأما نقله بعد دفنه فلا مطلقا.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 227)
"فإن نقل قبل الدفن قدر ميل أو ميلين" ونحو ذلك "لا بأس به" لأن المسافة إلى المقابر قد تبلغ هذا المقدار "وكره نقله لأكثر منه" أي أكثر من الميلين كذا في الظهيرية وقال شمس الأئمة السرخسي وقول محمد في الكتاب لا بأس أن ينقل الميت قدر ميل أو ميلين بيان أن النقل من بلد إلى بلد مكروه قال قاضيخان۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 614)
قوله: "أي أكثر من الميلين" كثرة فاحشة أما الزيادة عليهما بقدر يسير فلا تضر فلا ينافي قوله قبل ونحو ذلك قوله: "بيان أن النقل من بلد إلى بلد مكروه" أي تحريما لأن قدر الميلين فيه ضرورة ولا
ضرورة في النقل إلى بلد آخر۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 210)
   قال: وقد جزم في التاجية بالكراهة، وفي التجنيس وذكر أنه إذا مات في بلدة يكره نقله إلى أخرى؛ لأنه اشتغال بما لا يفيد، وفيه تأخير دفنه وكفى بذلك كراهة۔
الفتاوى الهندية (4 / 485)
ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن إلى قدر ميل أو ميلين فلا بأس به، كذا في الخلاصة. وكذا لو مات في غير بلده يستحب تركه فإن نقل إلى مصر آخر لا بأس به۔

وقاراحمد بن اجبرخان

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

۱۰رجب المرجب۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔