03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث
71965میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:ہمارے دادا ڈاکٹر عبد السلام کا انتقال تقریبا پچاس سال پہلے ہوا۔ انکے ترکہ میں ایک مکان ہے۔ورثاء میں دادا کے انتقال کے وقت تین بیٹے:عبدالرحمن،خالد منصور،سلیم اقبال اور دو بیٹیاں: ساجدہ اور شمع حیات تھیں۔بیوی،مرحوم دادا کے والد،والدہ،دادا،دادی،نانا،نانی وغیرہ پہلے انتقال کرچکے تھے۔پھر مرحوم دادا کے بیٹے خالد منصور کا انتقال ہوا،ورثاء میں بیوہ،چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔پھر مرحوم دادا کے ایک اور بیٹےسلیم کا انتقال ہوا اور ورثاء میں بیوہ اور چار بیٹے ہیں،مرحوم سلیم کی بیوہ نے دوسرا نکاح کرلیا ہے۔پھر مرحوم دادا کی بیٹی ساجدہ کا انتقال ہوا،ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا،ورثاء میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔پھر مرحوم دادا کے بیٹے عبدالرحمن کا انتقال ہوا،انتقال کے وقت بیوہ حیات تھیں ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔پھر مرحوم خالد کے بیٹے طارق منصور کا انتقال ہوا،یہ غیر شادی شدہ تھے۔پھر عبدالرحمن مرحوم کی بیوہ کا انتقال ہوا۔مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی ان کے والدین ان کے انتقال کے وقت حیات تھے۔مرحومہ کے ورثاء میں فقط ایک بھائی ہیں۔واضح رہے کہ دادا کے انتقال کے بعد مکان کے حصے میں ان کی دو بیٹیوں ساجدہ اور شمع کو ان کا حصہ خالد منصور اور سلیم اقبال نے اپنے ذاتی مال میں سے دے کر مکان میں سے ان کا حصہ اپنی طرف کر لیا تھا۔مکان کی مالیت تقریبا مبلغ سولہ کروڑ روپے ہے۔

مندرجہ بالا تفصیل کی رو سے مکان کی مالیت کی تقسیم ورثاء میں کس طرح ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم ڈاکٹر عبدالسلام نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ، چھوٹا بڑا سازوسامان بشمول اس گھر کے چھوڑا،سب مرحوم کا ترکہ ہے۔چنانچہ ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی جو مرحوم کے ذمہ واجب تھااور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) تک اس پہ عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو مال بچے اس کے کل 8حصے کرکے مذکورہ ورثاء میں درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔

   نمبر شمار

ورثاء

    عددی حصہ

   فیصدی حصہ

مکان کی مالیت میں سے حصہ

1

بیٹا     (عبدالرحمن)

2

25%

40000000

2

بیٹا(خالد منصور)        

2

25%

40000000

3

بیٹا(سلیم اقبال)        

2

25%

40000000

4

بیٹی (ساجدہ)      

1

12.5%

20000000

5

بیٹی(شمع)     

1

12.5%

20000000

کل

 

8

100

160000000

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعرو ……. ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.

معاذاحمد بن جاوید کاظم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب