021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر محرم کے عورت کا سفر کرنا
73343جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

جیسے آجکل کے ہوائی سفر پر اعتماد کہیں اگر عورت پردہ کا مکمل خیال رکھتے ہوئے ضرورت کی بنا پر  سفر کرے، سر پر ستوں کی زیر نگرانی یہاں سے ہوائی جہاز مین بیٹھ جائے اور وہاں سے رشتہ دار لے لیں  تو کیا عورت بغیر محرم اکیلے سفر کر سکتی ہے؟

o

مسافت شرعی) 77٫24 کلومیٹر(سے زیادہ سفر کرنے کےلیےعورت کے ساتھ شوہر یا محرم کا  موجود ہوناضروری ہےخواہ سفر کتنا ہی محفوظ او ر پراعتماد ہو،اور اگر کوئی خاتون شوہر یا کسی محرم کے بغیر بلاضرورت شدیدہ سفر کرےگی تو گناہ گار ہو گی۔البتہ اگر شدید ضرورت ہو اور کوئی محرم یا شوہرمیسر نہ ہوتو درج ذیل شرائط کے ساتھ سفر کی اجازت ہوگی :

۱۔ خاتون جوان نہ ہو، ادھیڑ عمر یا بوڑھی ہو۔

۲۔ خاتون کو ایئر پورٹ تک محرم لے جائے اور دوسرے شہر کے ائیر پورٹ سےبھی محرم  کے ساتھ گھر جائے۔

۳۔دوران سفر کسی مرد کے ساتھ والی سیٹ پر نہ بیٹھے بلکہ جہاز کے عملہ سے بات کر کے کسی عورت کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے۔

۴۔ فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (2/ 977)
419 - (1339) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، أن أبا هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة مسلمة تسافر مسيرة ليلة إلا ومعها رجل ذو حرمة منها»
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 340)
الذين يتكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب، فيكفي لها في مثل هذه الحال أن تكتسب في وطنها، ولا حاجة لها إلى السفر إلى البلاد الأجنبية، ولو لم تجد بدا من السفر في وطنها من بلد إلى آخر، ولم تجد أحدا من محارمها، ففي مثل هذه الحالة فقط يسع لها أن تأخذ بمذهب مالك، والشافعي، حيث جوزوا لها السفر مع النساء المسلمات الثقات

  محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

07/07/1442

‏                                               

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔