021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے ترکہ میں سے دیا ہوا قرض میراث میں شامل ہو گا
75234میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میت کے فوت ہونے کے بعد میت کی پہلی بیوی کے بڑے لڑکے نے میت کے پیسوں سے کچھ قرض اور کچھ سامان کسی اور کو دیا ۔ کیا اس  کا میراث میں شمار ہو گا ؟ اس کا حساب بھی لگانا ہو گا  ؟

o

میت کی پہلی بیوی کے لڑکے نے میت کے مال سے   جو رقم اور سامان قرض کی صورت کسی اور کو  دیا ہے وہ  سب  میت کی میراث  میں شامل ہو گا اور شریعت کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم ہو گا۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص761):
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها كالرهن والعبد والجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة، وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته، ولو هلك كفنه: فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه، وإلا فسيان كما بسطه السيد. وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي، وإلا لا (ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه.
وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة كقوله عليه الصلاة والسلام: أطعموا الجدات السدس أو الاجماع.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۴،  جمادی الثانی  ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔