03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانوروں میں کاروبارکی جائزصورتیں
77841خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 اگرناجائزہےتواس کودرست کیسےکیاجاسکتاہے؟اس مسئلےپرراہنمائی فرمادیں ۔جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جانوروں  کے کاروبارسےمتعلق مزیدتین ممکنہ صورتیں:۱۔پہلی صورت:شراکت داری کےبجائےابتداء سےہی اجارہ کامعاملہ کیاجائے،یعنی دیکھ بھال کرنےوالےکےلیےسنبھالنےکی اجرت بھی طے کردی جائےاورجگہ کاکرایہ طےکردیاجائے،کرایہ اوراجرت کی ادائیگی کسی بھی طرح طےکی جاسکتی ہےمثلا روزانہ،ماہانہ یاسہ ماہی وغیرہ ،جب فروخت کیےجائیں گےتواصل رقم مکمل مالک کی ہوگی ۔

۲۔ دوسری  صورت:شروع میں مالک جانورخریدکردینےکےبجائے،کام کرنےوالےکورقم فراہم کرے کہ وہ اس رقم سےجانورخریدے(یہ مضاربت مقیدہ ہوگی کہ صرف جانوروں کےکاروبارکےلیےرقم فراہم کی گئی ہے) کام کرنےوالااس رقم سےجانورخریدکرپالےاورسنبھالےاوربیچ کرنفع کوآپس میں طےشدہ تناسب سے(مثلا آدھاآدھا )تقسیم کرلیں،یہ صورت خالص مضاربہ کی ہوگی ،اس صورت میں نفع نقصان کی تقسیم اسی تفصیل کےمطابق ہوگی جو پہلےسوال کےجواب میں گزرچکی ہے

۔۳۔ تیسری  صورت :یہ ہےکہ جانورکامالک جانورکاآدھایاکچھ حصہ کام کرنےوالےکو بیچ دےیاہبہ کردے،اس طرح یہ دونوں اس جانور میں شرکت ملک کےتحت مالک بن جائیں گے،اس کےبعد مالک جانوروں کو پالنےکےلیےاپنےشریک کودیدے،اب اس کےبعد جب جانور فروخت کیےجائیں گےتو بقدالملک نفع تقسیم کیاجاسکتاہے۔

اوراگرنقصان ہوجائےتووہ  ملکیت کےاعتبارسےدونوں پرتقسیم ہوگا۔

مالک نےجانورکاجنتاحصہ کام کرنے والے کو بیچا تھااس کی قیمت وصول بھی کی جاسکتی ہےاور اگرمالک معاف کرناچاہےتوبھی کوئی حرج نہیں،جومقصد تھاجانوروں کوپالنااور ان کو بیچ کرنفع حاصل کرناوہ اس طرح حاصل ہوجائےگا۔

حوالہ جات

"الدرالمختارللحصفكي"5/330:

(تفسدالاجارةبالشروط المخالفةلمقتضى العقدفكلماأفسدالبيع) (يفسدها) كجهالةمأجور أو أجرة أو مدة أو عمل الخ۔

"رد المحتار" 23 / 362:( ولا ) يملك أيضا ( تجاوز بلد أو سلعة أو وقت أو شخص عينه المالك ) ؛ لأن المضاربة تقبل التقييد المفيد ولو بعد العقد ما لم يصر المال عرضا ؛ لأنه حينئذ لا يملك عزله فلا يملك تخصيصه كما سيجيء قيدنا بالمفيد ؛ لأن غير المفيد لا يعتبر أصلا كنهيه عن بيع الحال وأما المفيد في الجملة كسوق من مصر فإن صرح بالنهي صح ، وإلا لا ( فإن فعل ضمن ) بالمخالفة ( وكان ذلك الشراء له ) ولو لم يتصرف فيه حتى عاد للوفاق عادت المضاربة ، وكذا لو عاد في البعض اعتبارا للجزء بالكل

"الفتاوى الهندية" 36 / ص 120:

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما ، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي ، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر ۔كذا في الوجيز للكردري ۔؂

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ' 16 / 66:

ومثله إذا دفع بقرة إلى آخر يعلفها ليكون الحادث بينهما بالنصف فالحادث كله لصاحب البقرة ، وله على صاحب البقرة ثمن العلف ، وأجر مثله ، وعلى هذا إذا دفع الدجاج ليكون البيض بالنصف كذا في فتح القدير ، ومحلها كتاب الإجارات۔

محمدبن عبدالرحیم

دارلافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/صفر 1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب