03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نوبھائی بہنوں میں وراثت کی تقسیم
78349میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال 1987ء میں ہوا، انہوں نے ایک پلاٹ چھوڑا، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ اور نو بیٹے بیٹیاں تھیں،  والدہ کا انتقال 2012ء، دو بھائیوں کا انتقال 2016ء اور ایک بہن کا انتقال 2022ء میں ہوا، ان بھائی بہنوں کے بیوی بچے موجود ہیں، البتہ بہن کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ پلاٹ کیسے تقسیم ہو گا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ والدین کے انتقال کے وقت ان کے دادا دادی اور نانی میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھا، بلکہ ان کا انتقال ان کی وفات سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 آپ کے والدین نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو  چودہ (14) حصوں میں برابر تقسيم كر كے ہربیٹے کو  دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو  ایک(1) حصہ  دے دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

14.285%

2

بیٹا

2

14.285%

3

بیٹا

2

14.285%

4

بیٹا

2

14.285%

5

بیٹا

2

14.285%

6

بیٹی

1

7.142%

7

بیٹی

1

7.142%

8

بیٹی

1

7.142%

9

بیٹی

1

7.142%

واضح رہے کہ جن بھائی بہنوں کا انتقال ہو چکا ہے، ان کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔

حوالہ جات

      القرآن الکریم : [النساء/11]

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ۔

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

4/جمادى الاخرى 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب