03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی وراثتی زمین بیچ کروالدکی زندگی میں والدکےمال کےنقصان کوپوراکیاگیاتوکیاحکم ہوگا؟
78914میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال: والدہ کی وراثتی زمین حصہ دار بھائی بیچ کروالدکی حیات میں والد کےمال کانقصان پوراکرےتوکیاوراثت والدکےمال میں ضم ہوجائےگی یاوہ وراثت برابرتقسیم کرکےاداکرنالازم ہے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی طورپر پہلےوالدہ کی وراثتی زمین کو تقسیم کرنا چاہیےتھا،لیکن اگراس وقت وراثت تقسیم نہیں کی گئی  توشرعاکسی ایک وارث کادیگرورثہ کی اجازت کےبغیر وراثتی مال میں تصرف کرناشرعاجائزنہیں،اگرکسی نےانفرادی طورپر تصرف کیا تووہ ذمہ دارہوتاہے۔

موجودہ صورت میں  چونکہ والدکےمال کےنقصان کو پوراکیاگیاہےتواس کااندازہ لگایاجائےگاکہ والد کےمال میں والدہ کی   میراث کی رقم کتنی استعمال ہوئی؟ اگراتنی ہی رقم استعمال ہوئی ہےجتناوالدہ کی میراث  میں سےوالدکاحصہ بنتاتھاتووہ والدکی میرا ث میں ضم ہوجائےگی۔

اوراگروالدکےحصےسےزیادہ میراث کی رقم استعمال ہوئی مثلادیگرورثہ کی رقم بھی والدکےمال میں استعمال ہوگئی ہوتواس کےبقدررقم والدکےمال میں دین(قرض) شمارہوگی اوروفات کےبعدوالدکی میراث  کی شرعی تقسیم سےپہلےوالدہ کےمیراث کی رقم(جس میں دیگرورثہ کابھی حصہ تھایعنی بیٹےاوربیٹیوں کی میراث جوبطورقرض تھی)تقسیم کی جائےگی، پھروالدکی میراث  شریعت کےمطابق تقسیم ہوگی۔

ہاں اگروالدہ کی میراث جووالدکےمال میں استعمال ہوئی،اگرتمام ورثہ کی رضامندی سےاستعمال ہوئی تھی  توپھریہ رقم والدکی میراث میں ضم ہوکرصرف والدکی میراث تقسیم کی جائےگی۔اس صورت میں والدہ کی میراث الگ سےتقسیم کرنےکی ضرورت نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

16/جمادی الثانیہ    1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب