03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم
80136میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم پانچ بہن بھائی ہیں، دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، دونوں بھائی فوت ہو چکے ہیں، دونوں کی بیویاں حیات ہیں، ایک بھائی کی دو بیویاں اور دوسرے بھائی کی چار بیٹیاں ہیں، میرے ابو کے پاس دو پلاٹ تھے، ایک پلاٹ انہوں نے امی کو گفٹ کر دیا تھا، اب ایک پلاٹ ابو کے نام اور دوسرا امی کے نام ہے، امی اور ابو دونوں کا انتقال دونوں بھائیوں کی وفات سے پہلے ہواہے، برائے مہربانی شریعت کے حساب سے بتایے کہ پلاٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والدین نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد، سونا، چاندی،

نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،اس کے بعد ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو سات (7) حصوں میں برابر تقسيم كر كے ہربیٹے کو  دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو  ایک(1) حصہ  دے دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:واضح رہے کہ آپ کے دونوں بھائی چونکہ والدین کی وفات کے وقت حیات تھے، اس لیے ان کو بھی اپنے والدین کے ترکہ سے شریعت کے حکم کے مطابق حصہ ملے گا اور پھر ان کا حصہ ان کے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گا۔ 

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

28.571%

2

بیٹا

2

28.571%

3

بیٹی

1

14.285%

4

بیٹی

1

14.285%

5

بیٹی

1

14.285%

 

حوالہ جات

      القرآن الکریم : [النساء:11]

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/شوال المکرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب