| 80370 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
زید کا انتقال ہوا، اس نے دو بیویاں، چار لڑکیاں اور پانچ لڑکے چھوڑے ہیں۔ زید کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال اس کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا۔ زید کا اثاثہ دس (10) لاکھ روپے ہے۔ اس رقم کو ان سب میں کیسے تقسیم کریں گے؟ ان کے حصے کر کے بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زید نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحوم کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے کوئی قرض واجب ہو، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكئے جائیں،اگر یہ اخراجات کسی نے احسان کے طور پر ادا کردئیے ہوں تو اس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔ پھر دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں ، اگر مرحوم نے اپنی دونوں بیویوں یا ان میں سے کسی ایک کا مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی نے اپنی دلی خوشی سے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض میں شامل ہے جو اس کو دینا ضروری ہے۔اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1)مال کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کُل سولہ (16) حصے کر کے مرحوم کی دو بیواؤں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصے دیدیں، پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2، 2) حصے دیدیں اور چار بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیدیں۔
اس تفصیل کے مطابق دس (10) لاکھ روپے کی تقسیم حسبِ ذیل ہوگی۔
|
وارث کا مورث سے رشتہ |
دس (10) لاکھ روپے میں حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیوہ |
62,500 |
6.25% |
|
بیوہ |
62,500 |
6.25% |
|
بیٹا |
125,000 |
12.5% |
|
بیٹا |
125,000 |
12.5% |
|
بیٹا |
125,000 |
12.5% |
|
بیٹا |
125,000 |
12.5% |
|
بیٹا |
125,000 |
12.5% |
|
بیٹی |
62,500 |
6.25% |
|
بیٹی |
62,500 |
6.25% |
|
بیٹی |
62,500 |
6.25% |
|
بیٹی |
62,500 |
6.25% |
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11]
{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن} [النساء: 12]
السراجی فی المیراث(5):
قال علماؤنا رحمهم الله تعالی: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: ألأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقی من ماله، ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/ ذو القعدۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


