| 80697 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دی۔ میری بیگم کہتی ہے میں نے یہ بات نہیں سنی۔ میں بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ کیا یہ طلاق ہوگئی ہے؟ اگر ہوگئی ہے تو میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہوں، اس کا کیا طریقہ ہوگا؟ حلالہ کی گنجائش ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہِ کبیرہ ہے جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر کوئی ایک ساتھ تین طلاق دیدیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ نیز طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا سنننا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دیدی تو اس پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور آپ دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے، نہ ہی تحلیل کے بغیر آپ دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح ممکن ہے۔ اگر آپ دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک صورت ممکن ہے، اور وہ یہ کہ عدت گزرنےکےبعد اس خاتون کا کسی دوسرے شخص سے گواہوں کی موجودگی میں مقررہ مہر کے بدلے نکاح ہوجائے، دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد اپنی مرضی سےاسے طلاق دے یا ہمبستری کے بعد اس کا انتقال ہوجائے اور اس کی عدت گزرجائے توپھر آپ دونوں باہم رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئےمہر پر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } الآیة [البقرة: 230]
صحيح البخاري (7/ 42):
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إن رفاعة طلقني فبت طلاقي وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك تريدين أن ترجعي إلی رفاعة، لا، حتی یذوق عسیلتك وتذوقي عسیلته.
حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.
الدر المختار (3/ 232):
( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو ) واحدة في ( حيض موطوءة ).. الخ
رد المحتار (3/ 232,233):
( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر. ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين ….الخ
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/ ذو الحجۃ /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


