03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گلگت بلتستان کی وادی “لرک” میں جمعہ کا حکم
80699نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

 تانگیر گلگت بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے جو بڑی بڑی آبادی والے مقامات پر مشتمل ہے،جس کی وجہ سے یہ سب آبادیاں جمعہ کی فرضیت کے متعلق بڑی قابلِ نظر ہیں،کیونکہ بعض آبادیوں میں تو جمعہ قائم ہوتا ہے،مگر بعض بڑی آبادیاں عوام وخواص کی بے فکری کی وجہ سے جمعہ کی برکات سے محروم ہیں،انہیں بڑی آبادیوں میں سے ایک جگہ "لرک" ہے،جس کی مجموعی صورتِ حال درج ذیل ہے:

1۔پورے موضع لرک کی مجموعی آبادی چھ ہزار سے متجاوز ہے۔

2۔ضروریات کی ٹوٹل دکانیں58 ہیں،جن میں کھانے،پینے اور پہننے سے متعلق تمام ضرورت کی چیزیں موجود ہیں،ان میں میڈیکل اسٹور،لوہار،کباڑی اور بڑھئی وغیرہ کی دکانیں بھی موجود ہیں،نیز پوری تحصیل کا گندم سٹاک اسٹور بھی اسی موضع لرک میں واقع ہے،جہاں سے پوری تحصیل کے لئے گندم کا سرکاری کوٹہ تقسیم ہوتا ہے۔

3۔ایک عدد لڑکوں کا ہائی سکول ہے،جبکہ دو پرائمری اور ایک پرائمری سکول لڑکیوں کا ہے۔

4۔ایک ہسپتال بھی ہے،جہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور عملہ موجود ہوتا ہے،جانوروں کا ہسپتال بھی ہے۔

5۔ایک سرکاری نرسری ہے،جس میں چار سرکاری ملازم کام کرتے ہیں۔

6۔کرائے پر گاڑی کھڑی کرنے کے لئے ایک عدد گیراج بھی ہے۔

7۔پولیس اور فوجی چوکی بھی ہے جو ایک سکول میں قائم ہے اور چار پانچ سال سے وہاں باقاعدہ عملہ کے افراد موجود ہوتے ہیں۔

8۔چار بڑی مساجد ہیں۔

9۔دو کتابوں کے مدرسے ہیں اور حفظ کے،جبکہ جز وقتی اور ناظرہ کی کلاسیں تقریبا تمام مساجد میں لگتی ہیں،نیز سات آٹھ مقامدات پر مدرسة البنات گھروں میں قائم ہیں،جہاں بچیوں کو قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے۔

10۔نیز بعض حوائج میں اطراف کی دوسری آبادیاں بھی اس جگہ لرک کی طرف رجوع کرتی ہیں،جیسے سکول،ہسپتال،گندم وغیرہ۔

11۔دو سال سے لرک کی آبادی کے ساتھ متصل مضافات کی زمین جہاں پہلے لرک کے لوگوح کا اجتماعی کھیل کا میدان تھا اس جگہ کچھ عرصے سے واپڈا کی طرف سے ایک بڑی کالونی تعمیر کی جارہی ہے،اس کالونی کے تحفظ کے لئے اس جگہ کے اطراف میں کئی چوکیاں بھی تعمیر کی جارہی ہیں،جن میں سے بعض میں آج کل باقاعدہ عملہ بھی موجود ہوتا ہے۔

12۔لرک کی آبادی کے آخر میں واپڈا والوں کی طرف سے ایک بڑے بجلی گھر کی تعمیر اور اس کے پانی کی فراہمی کے لئے ڈیم کا کام بھی بڑی تیزی سے جاری ہے۔

13۔ 28 الیکٹرک چکیاں ہے،جہاں گندم،مکئی وغیرہ کی پسائی کی جاتی ہے۔

اب اس ساری تفصیل کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ مذکورہ آبادی میں احناف کے نزدیک اقامتِ جمعہ فرض ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو مذکورہ جگہ میں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے،کیونکہ مذکورہ بالاتفصیل کے مطابق یہ جگہ بڑے قصبے کے حکم میں ہے۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (1/ 259):

"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.

أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها .....

أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى، وعن أبي عبد الله البلخي أنه قال: أحسن ما قيل فيه إذا كانوا بحال لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة فهذا مصر تقام فيه الجمعة، وقال سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة...

وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.....

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/ذی الحجہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب