| 80786 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنا چاہتا ہوں، بینک کی مختلف ا سکیمیں ہیں انویسٹمنٹ کی مد میں، جن سے ماہانہ منافع ملتا ہے۔مجھے میزان بینک میں انویسٹمنٹ کے حوالے سے جہاں سے ماہانہ منافع حاصل ہو سکے، فتوی چاہیے۔
مختلف علماء کی اس معاملے میں مختلف رائے ہے، بعض علماء اس کو ناجائز بھی قرار دیتے ہیں ۔ان تمام معاملات کی روشنی میں شریعت کی رو سے فتوی جاری کریں تاکہ میں انویسٹمنٹ کرنے یا نہ کرنے کا صحیح فیصلہ کر سکوں۔ مزید یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ میزان بینک خود بھی فتوی دیتا ہے ،کیا وہ فتوی شریعت کے مطابق صحیح تصور کیا جائے کیونکہ یہ فتوی ہمارے دور کے جید علماء کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میزان بینک ایک غیر سودی بینک ہے،اس میں معاملات مستندعلماء کرام اور شرعی ایڈوائزرزکی زیرِ نگرانی سر انجام پاتے ہیں جو اس بات کی مکمل کوشش کرتے ہیں کہ تمام تر معاملات شریعت سے ہم آہنگ ہوں ۔ چونکہ میزان بینک شریعت کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے،لہذا آپ میزان بینک میں انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں، اس سے حاصل ہونے والا نفع لینا جائز ہے۔
بینک یا کوئی بھی ادارہ اپنے کام اور طریقہ کار کے حوالے سے کوئی فتوی دکھاتا ہے تو اس کی تصدیق کر کے اس کے مطابق عمل کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 363)
أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض: ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
05/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


