| 80922 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
سوال: کیاپینٹ شرٹ ،ٹائی پہنناجائزہے؟کیایہ نصاری کالباس ہے؟جبکہ یہ پوری دنیامیں بلاامتیاز مذہب وقوم استعمال کیاجارہاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آج کل پینٹ شرٹ خاص یہودونصاری اورکفارکالباس نہیں، بلکہ اس کارواج اتناعام ہوگیاہےکہ اس میں تشبہہ بالکفار(جوکہ ممنوع ہے) کی شان مغلوب ہوچکی ہے،اس لیےدرج ذیل شرائط کےساتھ اس کااستعمال جائز ہے:
1۔اس میں سترچھپ جاتاہو۔
2۔لباس اتناڈھیلاہوکہ اس میں اعضائےجسم کی بناوٹ اورحجم نظر نہ آتاہو۔
3۔ایسےباریک کپڑےکابنواہونہ ہوکہ اس سےجسم کی رنگت جھلکے۔
4۔ٹخنےڈھکےہوئےنہ ہوں۔
واضح رہےکہ ان شرائط کےساتھ جوازکےباوجودچونکہ یہ علماء صلحاء کالباس نہیں،اس وجہ سےشرعایہ بہرحال پسندیدہ لباس نہیں۔
اوراگرمذکورہ بالاشرائط میں سےکوئی ایک شرط نہ پائی جائےتو ایسی پینٹ شرٹ پہننا شرعاجائزنہیں ہوگا،بلکہ اس سےاحترازلازم ہوگا۔
جہا ں تک ٹائی کامسئلہ ہےتویہ بھی اب عیسائیوں کاشعارنہیں رہا،لہذااس کاپہنناحرام تونہیں،البتہ صلحاءکالباس بہرحال نہیں ،اس لیےحتی الوسع اس سےبچناچاہیے۔
حوالہ جات
"سنن أبي داود" 2 / 441:
عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم " من تشبه بقوم فهو منهم " حسن صحيح
"عون المعبود شرح سنن أبي داود"14 / 10:
قال المناوي والعلقمي : أي تزيى في ظاهره بزيهم , وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم انتهى وقال القاري : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا من اللباس وغيره , أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار( فهو منهم ): أي في الإثم والخير قاله القاري ۔
قال العلقمي : أي من تشبه بالصالحين يكرم كما يكرمون , ومن تشبه بالفساق لم يكرم ومن وضع عليه علامة الشرفاء أكرم وإن لم يتحقق شرفه انتهى۔
وقد روي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التشبه بالأعاجم , وقال : " من تشبه بقوم فهو منهم " وذكره القاضي أبو يعلى ۔وبهذا احتج غير واحد من العلماء على كراهة أشياء من زي غير المسلمين
"تکملۃ فتح الملہم" 4/88
ان اللباس الذی یتشبہ بہ الانسان باقوام کفرۃ لایجوزلبسہ للمسلم اذاقصد بذالک التشبہہ بہم ،قال ابن نجیم فی مفسدات الصلاۃ من البحر الرائق ثم اعلم ان التشبہ باہل الکتاب لایکرہ فی کل شئی وانماناکل ونشرب کمایفعلون ،انما الحرام ھو التشبہ فیماکان مذموما وفیمایقصدبہ التشبہ ۔
"تکملۃ فتح الملہم" 4/93
النھی عنھا من اجل التشبہ بالاعاجم فھو لمصلحۃ دینیۃ ،لکن کا ن ذالک شعارھم حینئذ وھم کفار،ثم لما لم یصر الآن یختص بشعارھم ،زال ذالک المعنی فتزول الکراھۃ ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
17/محرم 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


