03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پوسٹ مارٹم کے لئے قبر کشائی کا حکم
81192جنازے کےمسائلجنازے کے متفرق مسائل

سوال

قبر کشائی کن صورتوں میں کی جاسکتی ہے؟ کیا تفتیش میں مدد کے لئے ایسا کیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تدفین کے بعد مردہ کو قبر سے نکالنا جائز نہیں سوائے اس صورت کے جب اس کے ساتھ  حقوق العباد میں سے کوئی حق متعلق ہو،مثلا مغصوبہ زمین میں تدفین کی گئی ہو،یا غصب شدہ کپڑے میں اسے کفنایا گیا ہو وغیرہ،اس کے علاوہ قبر کشائی کی اجازت نہیں،جبکہ مذکورہ صورتوں میں بھی بہتر یہ ہے کہ مالک کو زمین یا کپڑے وغیرہ کی قیمت لینے پر راضی کرلیا جائے،تاکہ قبر کھولنے کی نوبت پیش نہ آئے۔

لہذا قبر کشائی کی گنجائش صرف اس صورت میں ہوگی جب میت کے ساتھ حقوق العباد میں سے کوئی حق یقینی طور پر متعلق ہو،قتل کے کیس میں پوسٹ مارٹم قاتل کی تعیین کے لئے مددگار ثابت ہوسکتا ہے،جس کا تعلق حق قصاص سے ہے،لیکن ایک تو قصاص کا یہ حق یقینی نہیں،بلکہ موھوم ہے اور دوسری بات یہ کہ محض پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بطورِ ثبوت شرعا کافی نہیں،بلکہ اس کی حیثیت محض ایک قرینے جیسی ہے، اس لئے تدفین کے بعد محض وجہِ موت کی تفتیش کے لئے قبر کشائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

نیز اگر کسی صورت میں پوسٹ مارٹم ناگزیر ہو تو حتی الامکان میت کے احترام اور ستر پوشی کا لحاظ رکھتے ہوئے تدفین سے پہلے کرلیا جائے۔

حوالہ جات

"الدر المختار"(2/ 237):

"(ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا زيلعي.

 (حامل ماتت وولدها حي) يضطرب (شق بطنها) من الأيسر (ويخرج ولدها) ولو بالعكس وخيف على الأم قطع وأخرج ولو ميتا وإلا لا كما في كراهة الاختيار. ولو بلع مال غيره ومات هل يشق قولان، والأولى نعم فتح".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة فإنه لا ينبش عليه بعد إهالة التراب كما مر (قوله كأن تكون الأرض مغصوبة) وكما إذا سقط في القبر متاع أو كفن بثوب مغصوب أو دفن معه مال قالوا: ولو كان المال درهما بحر. قال الرملي: واستفيد منه جواب حادثة الفتوى: امرأة دفنت مع بنتها من المصاغ والأمتعة المشتركة إرثا عنها بغيبة الزوج أنه ينبش لحقه، وإذا تلفت به تضمن المرأة حصته اهـ.

 واحترز بالمغصوبة عما إذا كانت وقفا. قال في التتارخانية: أنفق مالا في إصلاح قبر فجاء رجل ودفن فيه ميته، وكانت الأرض موقوفة يضمن ما أنفق فيه، ولا يحول ميته من مكانه لأنه دفن في وقف اهـ. وعبر في الفتح بقوله يضمن قيمة الحفر فتأمل

(قوله أو أخذت بشفعة) أي بأن اشترى أرضا فدفن فيها ميته ثم علم الشفيع بالشراء فتملكها بالشفعة (قوله ومساواته بالأرض) أي ليزرع فوقه مثلا لأن حقه في باطنها وظاهرها، فإن شاء ترك حقه في باطنها وإن شاء استوفاه فتح (قوله: كما جاز زرعه) أي القبر ولو غير مغصوب وكذا يجوز دفن غيره عليه كما في الزيلعي أيضا، وقدمنا الكلام عليه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

16/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب