03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسکول میں بچوں کو تادیب کے لیے مارنے کا حکم
81356جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اسکول میں زیادہ شرارت  یا سبق یاد نہ ہونے پر بچوں کو مارنا جائز ہے یا نہیں ؟اس کی شرعی حدود کیا ہیں؟  انسا ن ہونے کے ناطے  بعض  اوقات کسی بچے  کی پٹائی میں حد سے  تجاوز ہوجاتی ہے،بعد میں افسوس بھی ہوتا ہے،اور بچے سے اسی وقت معافی بھی ما نگتا ہوں ایسی صورت میں  بچے سے معافی  تلافی کی کیا صورت ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بچوں کو تادیب کی غرض سے یا سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے ڈنڈے وغیرہ سے مارنا جائز نہیں، البتہ بوقتِ ضرورت کھلے ہاتھ سے چہرے اور جسم کے نازک حصوں کے علاوہ زیادہ سے زیادہ تین دفعہ ہلکی مار لگا سکتا ہے۔ اگر کسی سے بچے کو مارنے میں حد سے تجاوز ہوجائے تو اگر وہ بچہ بالغ ہے تو اس سے معافی مانگے اور اگر وہ نابالغ ہے تو فی الحال اس کی معافی معتبر نہیں، بلوغت کے بعد معاف کرسکتا ہے، البتہ ایسی صورت میں اگر اس کی دلجوئی کی خاطر اس کو کوئی ہدیہ وغیرہ دیا جائے تو امید ہے ان شاء اللہ اس سے بھی تلافی ہوجائے گی۔  

حوالہ جات

الدر المختار (1/ 351):

کتاب الصلاة (هي فرض عين على كل مكلف) بالإجماع. فرضت في الإسراء ليلة السبت سابع عشر رمضان قبل الهجرة بسنة ونصف، وكانت قبله صلاتين قبل طلوع الشمس وقبل      غروبها، شمني.  ( وإن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد، لا بخشبة ) لحديث "مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء تسع، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر". قلت والصوم كالصلاة على الصحيح، كما في صوم القهستاني معزيا للزاهدي.

رد المحتار (1/ 352):

 قوله ( بيد ) أي ولا يجاوز الثلاث. وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها، قال عليه الصلاة والسلام لمرداس المعلم: إياك أن تضرب فوق الثلاث؛ فإنك إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منك اهـ. إسماعيل عن أحكام الصغار للأستروشني. وظاهره أنه لا يضرب بالعصا في غير الصلاة أيضا. قوله ( لا بخشبة ) أي عصا. ومقتضى قوله "بيد" أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط، أفاده ط. قوله ( لحديث الخ ) استدلال على الضرب المطلق. وأما كونه لا بخشبة؛ فلأن الضرب بها ورد في جناية المكلف، ا هـ ح.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        28/صفر المظفر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب