03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی اوراس کے خاندان والوں پر زناکی تہمت لگانا،نکاح کی شرائط پوری نہ کرنااوراس بناء پر عدالت سے بیوی کا خلع لینا
81439طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

تقریباً پانچ سال قبل میری بیٹی ریحانہ  کا نکاح ِشرعی ورخصتی ہمراہ مسرور نامی نوجوان ہوا، بوقت نکاح نکاح رجسٹرار موقع پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے نکاحِ شرعی پڑھاگیا اورالگ سے مہر رکھا گیا، اور فریقین کےمابین طے پایا  کہ دو چاردن بعد جسٹر پر درج کرالیں گے ،رجسٹرڈ پر شرائطِ نکاح مکان، چاردیوراری، دو  تولہ سونا زیور وغیرہ تحریر کریں گے، شادی ورخصتی کے چند دن بعد ہم نے نکاح اور شرائطِ نکاح درج کرنے کا کہا، لیکن دولہا  نے انکارکردیا، الٹا اپنی بیوی کو زد  وکوپ کیا اورجھگڑا کرتارہا جب بھی بیوی مطالبہ کرتی ہے کہ وعدہ کے مطابق حقِ سکنی مکان میرا حق ہے رجسٹر پر درج کروتو جواب میں نہ صرف انکارکرتاہے،بلکہ زد وکوب بھی کرتاہےحتی کہ بہتان بازی شروع بھی شروع کردیتاہے، اپنی  بیوی ریحانہ کو کہتاہے کہ تیرے فلاں آدمی سے غلط مراسم تھے، روزانہ اس نے جھوٹے بہتان ،طعنہ زنی کا سلسلہ شروع کردیا تو میری بیٹی نے اس سے تنگ آکر میرے گھر رہائش اختیارکرلی، یہاں تک کہ پا نچ ماہ گزرگئے، آخرکار پانچ ماہ بعد رشتہ داروں اورمعززین کی پنچائیت ہوئی کہ اگر خاوند مسرور اپنی اہلیہ کو زوجہ رکھنا چاہتاہے تو اس کو مکان، چاردیواری وغیرہ نکاح کے رجسٹرپر درج کرنا ہوگا، یہ عورت کا بنیادی حق ہے اس پر خاوند مسرورنے کہا کہ ویسےہی میری بیوی واپس پہنچا دو، میں کوئی شرط تحریرنہیں کرتااوریہ کہہ کر پنچائیت میں فیصلہ کنندگان اورمجھےیعنی سسرکو غلیظ گالیاں دیتا ہوا پنچائیت چھوڑ کر چلاگیا، آخر مجبوراً میں نے اپنی بیٹی کےلیے عدالت میں نان ونفقہ کا دعوی دائر کردیا، جب اس کو عدالتی نوٹس ملا، تو بجائے مفاہمت ومصالحت کے الٹا میرے ساتھ اورمیرے بیٹے کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کیا  اورایک دفعہ تو میرے بیٹے کو اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس پرتشدد کرکے زخمی کردیا، اس واقعہ کے بعد تو خاوند مسرورنے بد تمیزی کی حد ہی کردی، ٹچ موبائل ،فیس بک پر مجھے اورمیرے بھائی ،میرے بیٹے حتی کہ گھر کی مستوارت ساس وغیرہ پر غلط کاری کابہتان لگانا شروع کردیا  اورریحانہ بی بی پر زنا کا بہتان لگایا،اپنی بیوی کی تصاویرفیس بک پرغیر محرم کے ساتھ لگانے کا سلسلہ شروع کردیا ،ناحق بدنام کرنا شروع کردیا ،معززین ِعلاقہ، رشتہ داروں نے بارہاسمجھایا لیکن وہ اپنے اس شرمناک رویئے سے باز نہ آیا، اب ڈیڑھ سال ہوگیا ہے کہ اس نے دوسری شادی دوردراز علاقہ میں کی ہے اور وہاں مستقل سکونت اختیارکرلی ہے ، پانچ سال کے اس عرصہ میں متعدد بارمصالحت ومفاہمت کے تمام ذرائع استعمال کئےگئے، لیکن وہ ظالم کسی کی نہیں مانتا،اس کا ضدی مزاج ہونا پوری برادری میں مشہورہے، الٹا کہتاہےکہ میں نے دوسری شادی کرلی ہے، اس کی بیٹی کو اوراس کے والدین کو زندگی بھرمیں  رلاؤں گا۔

مندرجہ بالاحقائق کی بنیاد پر یہ استفتاء مقصود ہے کہ مسرورنامی خاوند نے اپنی بیوی اوراس کے خاندان کی زندگی پانچ سال سے اجیرن کررکھی ہے نہ وہ اپنی بیوی کا گھر بسانے پر تیارہےاور نہ ہی طلاق دینے پراور نہ ہی و عدہ کے مطابق حق سکنی دینے پر تیارہے، برادری ومعززین میں سے کسی کی بات سننے کو تیارنہیں، دوسری جگہ شادی کرکے اپناعلاقہ چھوڑ دیا ہے اورجہاں  دوسری شادی کی وہی سکونت بھی اختیار کرلی ہے، بے شمار مرتبہ ا پنی زوجہ ریحانہ اورساس ،سسرپر جھوٹے زنا کاالزام لگاکر فیس بک ٹچ موبائل پر لگاتارہتاہے،اپنی بیوی ریحانہ بی بی کی جعلی تصاویر غیرمحرموں کے ساتھ فیس بک پر لگاتاہے ،پانچ سال کے اس عرصہ میں ہر مفاہمتی کوشش کو مسترد کرچکاہے، برملاکہتاہے کہ میں ان کو زندگی بھررلاؤں گا ،بدنام کروں گا، میں نے اب دوسری شادی کرلی ہے ،محترم مفتی صاحب مندرجہ حالات حلفیہ طورپر  سچ تحریر کئے گئے ہیں کیا اب مجھے مجبوراً شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ میں عدالت میں جاکر بیٹی کے لیےتنسیخِ نکاح اور طلاق کا دعوی دائر کروں  یا  نہیں؟ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کا جواب  دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شرعاًمسرورکا اپنی بیوی پر زناکی تہمت لگانا،اس کو بدنام کرناشوشل میڈیا پرغیر محرم کےساتھ اس کی تصاویر شائع کرنا اوراسی طرح سسراس کے بھائی اورگھرکی مستورات پر زناکی تہمت لگانااورسوشل میڈیا پر ان کو بدنام کرنا سخت ناجائز اورحرام ہے جس سےاجتناب کرنا اورتوبہ واستغفارکرنامسرور پرلازم ہے اوربیوی اگرچاہے تو اس پر عدالت میں لعان کا دعوی کرسکتی ہے پھر زوجین لعان مٰیں اگرقسمیں اٹھالیں تو جج ان کے درمیان تفریق کردے گااورسسر،اسکے بھائی اوردیگرمستورات بھی اس پر عدالت میں تہمت لگانے کا کیس کرسکتے ہیں اگرمسرورزنا کو چارگواہوں سے ثابت نہ کرسکے تو اس پر حدقذف کے اسی کوڑے لگیں گے۔

مسرورکا مکان اوردوتولہ سونے کی شرط پہلے ماننا اورپھر نکاح نامہ میں درج کرنے سےانکارکرنا اوربیوی کو زد وکوب کرنا جائزنہیں ہے ان پرلازم ہے کہ حسبِ وعدہ یہ چیزیں نکاح نامہ میں درج کرائے اورمہیا کرائے، تاہم اگروہ ایسا نہیں کرتااوروعدہ خلافی کرتاہے تو وہ گناہگار ہوگا، لیکن اس  کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔

بہرحال نکاح نامہ میں  درج کرے یانہ کرے بہر صورت بیوی ہونے کی وجہ سے مسرورپر ریحانہ کا نان ونفقہ اوررہائش کا انتظام کرنا لازم ہے اگروہ پورا گھر نہ دے سکے توایسا کمرہ کہ جس کے ساتھ باتھ روم اورالگ کچن کا انتظام ہو چاہے ذاتی ہو،والد کا ہو یاکرایہ کاہو بیوی کو فراہم کرنا ضروری ہے اگروہ ایسا نہیں کرتاتوعدم ادائیگی نفقہ وسکنی کی بناءپر عورت عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائرکرسکتی ہے اور نکاح فسخ کرواسکتی ہےجس کا مختصرطریقہ کاردرج ذیل ہے۔

بیوی اپنا دعوی قریبی عدالت میں پیش کرے، اورعدالت میں گواہوں سے اپنادعوی ثابت کرے پھر عدالت فریقین کے بیانات سن کر اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت مظلوم ہے، اواس کےساتھ شوہر یقیناًظالمانہ برتاؤ کررہا ہے،اورنفقہ نہیں دے رہاہے توپھر عدالت اس جیسی مظلوم عورت کا اس کے شوہر سے نفقہ نہ دینے کی وجہ سےنکاح فسخ کرسکتی ہے؛ لہٰذا عورت اپنا معاملہ عدالت کے روبرو پیش کرے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ (الحیلۃ الناجزۃبتصرف)

واضح رہے کہ موجودہ زمانے میں عدالتوں سے جاری ہونے والی خلع کی اکثر ڈگریاں غیر شرعی بینادوں پر ہونے کی وجہ سے شرعاً غیر موثر ہوتی ہیں اوران سے نکاح ختم نہیں ہوتا،لہذا جب عورت ضرورت کے وقت عدالت سے خلع لے تو کسی شرعی بنیاد مثلاًنفقہ نہ ملنے کی وجہ سے دعوی دائرکرے اوراپنے اس دعوی کو شرعی گواہوں (دو دیانتدارمرد یا ایک مرد اوردو عورتوں کی گواہی سے ثابت بھی کرے)ورنہ غیر شرعی بنیاداوربغیرشرعی گواہوں کے ایک فریق کے بنان حلفی پر لیاجانے والا عدالتی فیصلہ شرعاًغیرمعتبرہوگا اوراس سے نکاح ختم نہیں ہوگا۔

بچی کے والد کو بھی چاہیے کہ اگرخاونداپنی بیوی کو لیکر جاناچاہے تو بچی کو اپنے پاس نہ روکے رکھے اورخاوند کے پاس بھیج دے اگرچہ وہ اس کو والدکے مکان میں الگ کمرے میں رکھےاورباتھ روم اورکچن کاانتظام کرےاورنان اورنفقہ دے،اس طرح اپنے پاس روک کر رکھنے سے والد اپنی بچی کےلیے نان ونفقہ اورسکنی کا مطالبہ نہیں کرسکتا،کیونکہ اس صورت میں وہ نافرمان تصور ہوگی اورنان ونفقہ اوررہائش سے محروم ہوگی ۔

حوالہ جات

قال للہ تعالی:

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (4) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (5) وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (6) وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (7) وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ (8) وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ (9) وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ  [النور/4-10]

عن ثوبان رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیما امرأۃ سألت زوجہا طلاقاً في غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶، سنن الترمذي رقم: ۱۱۸۷، مسند أحمد ۵؍۲۷۷، مشکاۃ المصابیح ۲۸۳ رقم: ۳۲۷۹، المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۸ رقم: ۲۸۰۹، السنن الکبریٰ للبیہقي ۷؍۳۱۶)

إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ .باب الشروط فی المھر عند عقد النکاح، صحیح البخاری:حدیث:2572وصحیح مسلم،کتاب النکاح، حدیث:1418.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (ج 20 / ص 467)

قوله أحق الشروط وفي رواية الترمذي أن أحق الشروط هل المراد بقوله أحق الحقوق اللازمة أو هو من باب الأولوية قال صاحب الأكمال أحق هنا بمعنى أولى لا بمعنى الإلزام عند كافة العلماء قال وحمله بعضهم على الوجوب والمراد بالشروط التي هي أحق بالوفاء هل هو عام في الشروط كلها أو الشروط المباحة أو ما يتعلق بالنكاح من المهر والنحلة والعدة أو المراد به وجوب المهر فقط ولا شك في أن الشروط التي لا تجوز خارجة عن هذا وأنها لا يوفي بها وكذلك الشروط التي تنافي موجب العقد كاشتراط أن يطلقها أو أن لا ينفق عليها أو نحو ذلك ثم اختلفوا هل تلزم الشروط الجائزة كلها أو ما يتعلق بالنكاح من المهر ونحوه فروى ابن أبي شيبة في المصنف عن أبي الشعثاء عن الشعبي قال إذا شرط لها دارها فهو بما استحل من فرجها وقال النووي قال الشافعي وأكثر العلماء هذا محمول على شروط لا تنافي مقتضى النكاح بل تكون من مقتضاه ومقاصده كاشتراط العشرة بالمعروف والإنفاق عليها وكسوتها وسكناها بالمعروف وأنه لا يقصر في شيء من حقوقها ويقسم لها كغيرها وأما شرط يخالف مقتضاه كشرط أن لا يقسم لها ولا يتسرى عليها ولا ينفق عليها ولا يسافر بها ونحو ذلك فلا يجب الوفاء به بل يلغو الشرط ويصح النكاح بمهر المثل واستدل بعضهم على أنه إذا اشترط الولي لنفسه شيئا غير الصداق أنه يجب على الزوج القيام به لأنه من الشروط التي استحل به فرج المرأة فذهب عطاء وطاوس والزهري أنه للمرأة وبه قضى عمر بن عبد العزيز وهو قول الثوري وأبي عبيد وذهب علي بن الحسين ومسروق إلى أنه للولي وقال عكرمة إن كان هو الذي ينكح فهو له وخص بعضهم ذلك بالأب خاصة لتبسطه في مال الولد وذهب سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير إلى التفرقة بين أن يشترط ذلك قبل عصمة النكاح أو بعده فقالا أيما امرأة أنكحت على صداق أو عدة لأهلها فإن كان قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان من حباء لأهلها فهو لهم فقال مالك إن كان هذا الاشتراط في حال العقد فهو للمرأة وإن كان بعده فهو لمن وهب له واحتج لذلك بما روى أبو داود والنسائي وابن ماجه من رواية ابن جريج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي قال أيما امرأة نكحت على صداق أو حباء أو عدة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن أعطيه وأحق ما أكرم عليه الرجل ابنته أو أخته وبقول مالك أجاب الشافعي في القديم ونص عليه في الإملاء رواه البيهقي في المعرفة ثم قال في آخر الباب وقد قال الشافعي في كتاب الصداق الصداق فاسد ولها مهر مثلها وقال شيخنا هذا ما صححه أصحاب الشافعي قال الرافعي والظاهر من الخلاف القول بالفساد ووجوب مهر المثل وقال النووي أنه المذهب وقال الترمذي العمل على حديث عقبة عند بعض أهل العلم من أصحاب النبي منهم عمر بن الخطاب قال إذا تزوج رجل امرأة وشرط لها أن لا يخرجها من مصرها فليس له أن يخرجها وهو قول بعض أهل العلم وبه يقول الشافعي وأحمد وإسحاق وروي عن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه أنه قال شرط الله قبل شرطها كأنه رأى للزوج أن يخرجها وإن كانت اشترطت على زوجها أن لا يخرجها وذهب بعض أهل العلم إلى هذا وهو قول سفيان الثوري وبعض أهل الكوفة -

الدر المختار للحصفكي (ج 3 / ص 58):

(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح.

سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)

عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا

الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .

قال اللّٰہ تعالیٰ:

 {فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} (البقرۃ: ۲۲۹)قد صرح في الخانیۃ: بأنہا لو أبرأتہ عمالہا علیہ علی أن یطلقہا، فإن طلقہا جازت البراء ۃ وإلا فلا۔ (شامي ۵؍۱۰۷ زکریا، ۳؍۴۵۴)

وفی الھندیۃ (۴۸۸/۱):

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔

وفی الشامیۃ (۴۴۱/۳):

قوله ( للشقاق ) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم  وفي القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اهـ ط وهذا هو الحكم المذكور في الآية وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب ۔

وفی البحرالرائق  کتاب الطلاق( ج ۳ ص ۲۵۳)

واما سبعہ فالحاجۃ الی الخلاص عند تبائن الا خلا ق و عروض البغضاء المو جبۃ عدم اقامۃ حدود اﷲ الخ

ویکون واجبااذا فات الا مساک بالمعروف .

وفي الہدایۃ:

وإن تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللہ، فلا بأس بأن تفتدي نفسہا منہ بمال یخلع بہ۔ لقولہ تعالیٰ: فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ، فإذا فعل ذٰلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ ولزمہا المال، …وإن طلقہا علی مال، فقبلت وقع الطلاق ولزمہا المال۔ (ہدایۃ، کتاب الطلاق، باب الخلع، اشرفی دیوبند ۲/۴۰۴)

وفی الھندیۃ:

واذا نقد الزوج المھر وطلب من القاضی ان یأمرابالمرأۃ بتسلیم المرأۃ فقال ابوھا انھا صغیرۃ لا تصلح للرجال ولا تطبیق الجماع وقال الزوج بل ھی تصلح وتطبیق ینظران کانت ممن تخرج اخرجھا واقفرھا وینظرالیھا وان صلحت للرجال امر بدفعھا الی الزوج وان لم تصلح لم یأمرہ۔(الفتاوٰی الھندیۃ:ج؍۱،ص؍۲۸۷،الباب الرابع فی الاولیاء)

وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172)

عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 11 / ص 251)

ولا شبهة في أن الناشزة لا تجب نفقتها مطلقا

حاشية رد المحتار - (ج 3 / ص 188)

قوله: (لكن لا نفقة الخ) لانها جزاء الاحتباس، ولذا لم تجب نفقة الناشزة والحاجة مع غير الزوج والمغصوبة والمحبوسة بدين عليها.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲۴/۳/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب