03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کی طرف سے ٹوکن پرلکھی ہوئی رقم سے زیادہ دکاندارکودینا
81586سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

سوال یہ ہے دکاندار کوکمپنی کی طرف سے ٹوکن پرلکھی ہوئی رقم اداکرنے پر15فیصداضافے کے ساتھ رقم  ملتی ہے ،کیادکاندارکے لئے یہ رقم لینی جائزہے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مپنی کی طرف سے دکاندارکوملنے والی رقم کی حیثیت سود کی ہے ،کیونکہ دکاندارکمپنی کی طرف سے رقم اداکرکےکمپنی کادائن بن چکاہے ،کمپنی اس دین کی ادائیگی کی وجہ سے دکاندارکواس پرمزیدرقم دیتی ہے،جبکہ دین پرحاصل ہونے والانفع سود ہے ،لہذادکاندار کے  لئے انعامی کوپن پرلکھی ہوئی رقم سے زیادہ لیناجائزنہیں۔

حوالہ جات

"( وأما ) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة ، على أن يرد عليه صحاحا ، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه { نهى عن قرض جر نفعا } ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض ، والتحرز عن حقيقة الربا ، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."

 

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱۰/ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب