03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین تولہ زیور کی گزشتہ چھ سالوں کی زکوة
86716زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک بندے نے 28 اکتوبر 2018 کو شادی کی ہے۔ شادی میں مہر تین تولہ سونا رکھا گیا تھا جو بندے نے شادی کے وقت ہی بنا کر ادا کیا تھا۔ لیکن بندے نے ابھی تک اس سونے کی زکوة ادا نہیں کی، اور اب وہ اس کی زکوة ادا کرنا چاہتا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی مکمل زکوة معلوم کرکے بتائیں کہ موجودہ وقت میں اس کی کتنی زکوة بنتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کی اہلیہ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھی اور ذکر کردہ زیور سے 28 اکتوبر 2018 کو صاحبِ نصاب بنی ہے، تو اسلامی لحاظ سے اس کی زکوة کی تاریخ 18 صفر 1440 بنتی ہے۔ اس حساب سے 18 صفر 1446 تک 6 سال بنتے ہیں، اور ان چھ سالوں کی زکوة دینا اس پر واجب ہے۔

 مسئولہ صورت میں تین تولہ زیور سونے کے نصاب 7.5 تولہ سے کم ہے، لیکن چونکہ کچھ رقم خواتین کے ساتھ تاریخ زکوة میں عام طورہوتی ہے جو سونے کے ساتھ ملانے سے نصاب مکمل ہوجاتا ہے، تو اس لیےصورتِ مسئولہ میں گزشتہ سالوں کی زکوة کےوجوب کاقول احتیاطاً کیا جا رہا ہے۔

مسئولہ مسئلہ میں حرج کی وجہ سے یوم الاداء کے بجائے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق یوم الوجوب کی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے زکوة نکالنے کا طریقہ درج کیا جاتا ہے، جو درج ذیل ہے۔

 پہلے 18 صفر 1441 مطابق 18 اکتوبر 2019 کو تین تولہ سولہ سونے کی قیمت سنار سے یا کسی اور ذریعہ سے معلوم کرکے اس کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ گزشتہ ایک سال کی زکوة اڑھائی فیصد کے حساب سے نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ پھر 18 صفر 1442 مطابق 6 اکتوبر 2020 کو تین تولہ سولہ سونے کی قیمت معلوم کرکے پہلے اس سے سال سابقہ 1441 کی مقدار زکوة منفی کریں اور پھر باقی رقم کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ گزشتہ ایک سال کی زکوة اڑھائی فیصد کے حساب سے نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ پھر 18 صفر 1443 مطابق 26 ستمبر 2021 کو تین تولہ سولہ سونے کی قیمت معلوم کرکے پہلے اس سے سال سابقہ دو سالوں 1441، 1442 کی مقدار زکوة منفی کریں اور پھر باقی کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوة نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ اسی طرح ہر سال اپنی اسلامی تاریخ 18 صفر کے لحاظ سے تین تولہ سونے کی قیمت معلوم کرتے جائیں اور سابقہ سالوں کی زکوة اس سے منہا کر کے باقی کو 40 پر تقسیم کرتے جائیں تاکہ اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوة نکلتی جائے۔ اس طرح آپ 18 صفر 1446 تک کرتے جائیں تاکہ گزشتہ چھ سالوں کی زکوة معلوم ہو سکے۔

حوالہ جات

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 125)

(قوله وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة) وكذا يضم بعضها إلى بعض وإن اختلف أجناسها (قوله وكذلك يضم الذهب إلى الفضة بالقيمة حتى يتم النصاب عند أبي حنيفة) كما إذا كان معه مائة درهم وخمسة مثاقيل قيمتها مائة درهم فعليه الزكاة عند أبي حنيفة خلافا لهما.

(قوله وقال أبو يوسف ومحمد لا يضم الذهب إلى الفضة بالقيمة ويضم بالأجزاء) كما إذا كان معه عشرة دنانير قيمتها خمسون درهما ومعه أيضا مائة درهم وجبت عليه الزكاة عندهما لكمال النصاب بالأجزاء وكذا عنده أيضا احتياطا لجهة الفقراء.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303)

وفائدته تظهر فيمن له حنطة للتجارة قيمتها مائة درهم وله خمسة دنانير قيمتها مائة تجب الزكاة عنده خلافا لهما.

فتح القدير (2/ 219):

 ثم قول أبي حنيفة فيه أنه تعتبر القيمة يوم الوجوب، وعندهما يوم الأداء، والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين وله ولاية منعها إلى القيمة فتعتبر يوم المنع كما في منع الوديعة وولد المغصوب، وعنده الواجب أحدهما ابتداء ولذا يجبر المصدق على قبولها فيستند إلى وقت ثبوت الخيار وهو وقت الوجوب.

(درر الحكام شرح غرر الأحكام : (ص:2،ص: 355

والخلاف في زكاة المال ،فتعتبر القيمة وقت الأداء في زكاة المال على قولهما، وهو الأظهر. وقال أبو حنيفة: يوم الوجوب كما في البرهان .وقال الكمال: والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين، وله ولاية منعها إلى القيمة ،فيعتبر يوم المنع كما في منع رد الوديعة ،وعنده  الواجب أحدهما ابتداء ،ولذا يجبر المصدق على قبولها.

{وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78]

  1. "إذا كانت مقدار الزكاة بناءً على سعر الذهب الحالي مرتفعة لدرجة أن دفعها يتسبب في صعوبة شديدة وضيق، فيجوز دفع الزكاة بناءً على سعر الذهب في السنة التي عليها الزكاة. كما ورد في باب فتاوى دار العلوم كراتشي: رقم الفتوى: 24/1665."

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲۷/۷/۱۴۴٦ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب