| 83674 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
ایک مطلقہ عورت اپنی طلاق کی عدت کے اڑتالیس دن گرزنے کے بعد دوسرا نکاح کرلیتی ہے ، آیا یہ نکاح شرعا صحیح ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مطلقہ عورت اگر عورت حاملہ ہے ، تو اس کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش ) ہے، لہذا وضع حمل سے پہلے وہ اپنا دوسرا نکاح نہیں کرسکتی اور اگر مطلقہ عورت حائضہ ہے، یعنی اسے ماہواریاں آتی ہیں، تو اس کی عدت تین ماہواریوں (حیض) کا گزرنا ہے ، اس سے پہلے وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی،اور اگر مطلقہ عورت ایسی ہے جس کو کم عمر یا عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتا، تو اس کی عدت تین ماہ ہوگی۔ تین ماہ گزرنے کے بعد وہ کہیں بھی اپنا دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر مطلقہ عورت حائضہ ہے اور وہ اپنی عدت کے اڑتالیس دن گزرنے کے بعد یہ اقرار کرلے کہ اس کی عدت پوری ہوگئی ہے، تو امام ابو یوسف ؒو امام محمد ؒ کے نزدیک چونکہ اس کی عدت اتنے عرصے میں پوری ہوجاتی ہے، لہذا ایسی عورت کا دوسرا نکاح کر لینا شرعا جائز ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (البقرۃ:235):
وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132):
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ.
الفتاوى الهندية (6/ 496):
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة ، كذا في السراج الوهاج .سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح ، كذا في البدائع .
مجمع الأنهر(1/441):
(ولو قالت مطلقة الثلاث انقضت عدتي منك وتحللت) أو تزوجت بآخر ودخل بي وطلقني (وانقضت عدتي) منه (والمدة تحتمل ذلك) ؛ لأنها لو لم تحتمله فإنه لا يصدقها واحتماله أن يذكر لكل عدة من العدتين في هذه المسألة ما يمكن وهو شهران عند الإمام وتسعة وثلاثون يوما عندهما (فله) أي للزوج (تصديقها إن غلب على ظنه صدقها) ؛ لأنها معاملة وأمر ديني لتعلق الحل به، وقول الواحد فيهما مقبول وهو غير مستنكر إذا كانت المدة تحتمله.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
28/شوال المکرم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


