03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوبیٹوں اور دوبیٹیوں میں تقسیم میراث
83824میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

دوبیٹوں اور دوبیٹیوں میں تقسیم میراث

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعا نہ کیے ہوں تو ) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ ہربیٹے کا حصہ :33.3333 فیصدہے۔دوبیٹوں کا مجموعی حصہ66.6667فیصد ہوگا۔

2۔ہر بیٹی کا حصہ:16.6666فیصد ہے ۔دو بیٹیوں کا مجموعی حصہ33.3333فیصد ہوگا۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

10/ذوالقعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب