| 83804 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں :
۱۔ ہمارےچھوٹے بھائی اسداللہ ولدحاجی محمدعبداللہ مرحوم وراثت میں 25ایکڑ رقبہ چھوڑ گئے مرحوم کا نکاح ہو چکا تھا ،رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ورثاء نے مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطران کی چھوڑی ہوئی زمین پر اسد الاسلام کے نام سے مدرسہ قائم کیا ،دو وارثوں کے علاوہ کچھ ورثاء نے اپنا مکمل حصہ اور کچھ ورثا ءنے جزوی حصہ وقف کیا،سرپرستی کے لئے اسد الاسلام کو جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کی شاخ بنادیا گیا اورشیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید کو سرپرست بنا گیا ،اسد الاسلام کے نام 16 ایکڑ رقبہ ہے جو چک نمبر TDA-221تحصیل ضلع لیہ میں واقع ہے اور اسی چک میں اسد الاسلام قائم کیا گیا،حضرت شیخ صاحب نےاسد الاسلام اور رقبہ پر سائل کو نگران مقرر کیا۔
2. مدرسہ چل رہا تھا 25 سے 30 طالب علم موجود تھے ،مفتی ضیاء الحق (ایک وقف کنندہ کا بیٹا ہے) کو پیشکش کی گئی کہ اسد الاسلام کو سنبھال لے،لیکن انہوں نے دار العلوم لیہ کلو چوک کے نام سے الگ مدرسہ قائم کر دیا ،اسد الاسلام کو بند کرکے طلباء اور علماء کو وہیں لے گئے ۔ چند سال بعد انہوں نے حضرت شیخ کی اجاز سے سے 8 ایکڑ رقبہ بھی لے لیا ،تمام واقفین نے دارالعلوم کلو چوک کو سپورٹ کیا ۔
3۔اسد الاسلام کا کمرہ جس جگہ بنایا گیا تھا وہ جگہ حاجی عبداللہ مرحوم کی ایک بیٹی کے حصے میں آئی، ](کیونکہ زمین وقف کرنے کے بعد ترکہ کی تقسیم کی تھی۔) سائل سے زبانی طور پر معلوم کیا[ اور اسد الاسلام بھی بند ہو چکا تھا ،اس لئے کمرہ اکھاڑنے کی بجائے ان کو بیچ دیا گیا۔
4۔اسد الاسلام کے بند ہونے کے بعد اس زمین کو ٹھیکہ پر دیتے تھے اور ٹھیکہ سے حاصل ہونے والے پیسوں میں سے ایک بڑا حصہ جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہیدکو دیا،کچھ رقم چند دوسرے مدارس کو دیا اور ایک کمرہ کی رقم بمعہ کچھ نقد پیسے سائل کے پاس ہے،جس کا حساب کتاب موجود ہے،سائل کار قم رکھنے کا مقصد اگر اللہ نے موقع دیا کسی دوسری جگہ پراسد الاسلام قائم کرے گا جس کی حضرت شیخ نے اجازت بھی فرمائی تھی۔
5۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ سائل نے قبضہ جامع شرف الاسلام چوک سرور شہید والوں کوواپس کیا،اب اس زمین کے 8 ایکڑ کو ثناءاللہ اور 8 ایکڑ کو خالد محمود نے ٹھیکہ پر لیا ہے اور جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید کے ذمہ داران جو حضرت شیخ صاحب کے بیٹے ہیں انہیں سر پرست مان کر ٹھیکہ کا اسٹام بھی لکھ دیا،جامع شرف الاسلام کی طرف سے اسد الاسلام کا انتظام دارالعلوم کلو چوک کے سپرد کیا ہےجس کی زیر نگرانی مدرس مقرر ہے اور کلاس لگ رہی ہے۔
6۔اب تنازعہ شروع ہواہے،ایک فریق مفتی ضیاء الحق صاحب اور چند دوسرے وقف کرنے والے حضرات ہیں اور دوسرا فریق ثناء اللہ اور بعض وقف کرنے والے ہیں جو منظر عام پر نہیں آتے،ثناء اللہ نے بورڈ جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام کی زیر سر پرستی کا لگایاتھا،ان کے نوٹس میں دیے بغیر بورڈ اکھیڑ دیا ہے اوراپنے قبضہ والے رقبہ پر مدرسہ کی تعمیر کے لیے اینٹیں بھی رکھ دی ہیں۔
7۔جیسا کہ نمبر 1میں عرض کیا گیا ہے کہ اسد اللہ مرحوم کی منکوحہ موجود تھی،اس کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے وراثتی انتقال میں ہم نے اسکا نام نہیں دیا تھا،اس نے عدالت سے رجوع کیا تو ہم نے جعلی طلاق نامہ پیش کیا ،ہم نے اتفاق کر لیا تھا کہ منکوحہ کو حصہ نہیں دینا ،اس کیس کی پیروی سائل کے سپرد کی گئی،کیس طویل ہوگیا،بھائیوں نےخرچہ دینے سے انکارکردیا ،نقد رقم کے علاوہ سائل 5 ایکڑ زمین کیس میں کام آئی ،اب شریعت کی روسے رہنمائی فرمائیں کہ
1۔مدرسہ اسد الاسلام دار العلوم کلو چوک کی زیر نگرانی چل رہا ہے ، مسجد بھی نئی تعمیر کرائی گئی ہے کلاس مسجد میں لگتی ہے ،اسی جگہ دواسر ا مدرسہ قائم کرنا مناسب ہے؟
2۔ اگر ثناء اللہ مدرسہ الگ بناتا ہے تو ہر واقف اپنا حصہ طلب کرتا ہے اس صورت میں کیا کیا جائے؟
3۔سائل کی ذمہ (کمرہ کی رقم ملا کر) 1114621 روپے ہیں،مذکورہ رقم وقتی طور پر ذاتی اخراجات میں خرچ ہو گئی ،تو کیا مدرسہ کی رقم بطور قرض ذاتی ضروریات میں خرچ کرنے پرضمان آئے گا؟
4 ۔ سائل کے ذمہ مدر سے کی جو رقم ہے کیا اس سے کیس کے اخراجات لے سکتا ہے؟
5۔اگر نہیں لے سکتا تو چک نمبر-TDA 135 میں اپنا مدرسہ قائم کر رہا ہے اس پر خرچ کر سکتا ہے یا جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرورشہید والوں کےڈیماند کے مطابق ان کو دے دے یا ثناءاللہ کےمطالبے کے مطابق ان کو دے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1 ۔مدرسہ اسدالاسلام کی زمین اگر واقفین نے بغیر کسی شرط کے صرف اسی مدرسہ کے لئے وقف کیاہو تو اسد الاسلام کی جگہ پر دوسرا مدرسہ بنانا جائز نہیں اور نہ دوسرے مدرسہ بنانے کی ضرورت ہے ،کیونکہ جب واقفین نے زمین مدرسہ کے لئے وقف کردی تو یہ وقف ہوگئی اور وقف کرنے کے بعد موقفہ زمین قیامت تک کے لئے ان کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں آچکی ہے،لہذا اب وہ کسی قسم کا مالکانہ تصرف نہیں کرسکتے اور ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ اس زمین پر پہلے سے ایک مدرسہ بنا ہوا ہے تو اسی مدرسہ کو مل کر کامیاب بنانےکی کوشش کریں ۔
2۔ثناءاللہ کے لئے اسی جگہ پر دوسرامدرسہ بنانا جائز نہیں،کیونکہ یہ جگہ پہلے سے مدرسہ اسدالاسلام کے لئے وقف شدہ ہے،اسی میں اس جگہ کو استعمال کیاجاسکتاہے۔نیزوقف کرنے کے بعد اب واقفین اپنے حصے واپس نہیں لے سکتے۔
3۔مدرسہ کی رقم ذاتی ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں، لہذا لی گئی رقم کےبقدر پیسے لوٹانا سائل کے ذمہ لازم ہے، ذاتی ضروریات میں خرچ کرنے پر کوئی اور ضمان لازم نہیں آتا،صرف اتنی رقم کی واپسی ضروری ہے۔
4۔مدرسہ کی رقم سے کیس کے اخراجات لینا جائز نہیں ہے ،کیونکہ مدرسہ کی رقم صرف مدرسہ کے مصالح میں ہی خرچ ہوسکتی ہے اور کیس مدرسہ کے مصالح میں سے نہیں ہے،مزید یہ کہ یہ کیس منکوحہ کے خلاف بالکل ناجائز اور ظلم ہے ،کیونکہ منکوحہ کا ترکہ میں حق بنتاتھا اور کسی کے حق کو ناجائز طور پر روکنا یا محروم کرنا سراسرظلم ہے۔
5۔کسی مدرسہ کی رقم ، اسی مدرسہ کے مصالح میں ہی استعمال کرنا ہوگی کسی دوسرے مدرسہ کو عام حالت میں دینا جائز نہیں،جبکہ متعلقہ مدرسہ کو خود ضرورت بھی ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 351):
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
[رد المحتار]
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 200):
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، (203/5):
الخامس من شرائطه الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا لأنه إنما ملكها بعد أن وقفها هذا على أنه هو الواقف أما لو وقف ضيعة غيره على جهات فبلغ الغير فأجازه جاز بشرط الحكم والتسليم أو عدمه .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 265):
وإنما الكلام الآن في شروط الواقفين فقد أفادوا هنا أنه ليس كل شرط يجب اتباعه فقالوا هنا إن اشتراطه أن لا يعزله القاضي شرط باطل مخالف للشرع وبهذا علم أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع ليس على عمومه قال العلامة قاسم في فتاواه أجمعت الأمة أن من شروط الواقفين ما هو صحيح معتبر يعمل به ومنها ما ليس كذلك ونص أبو عبد الله الدمشقي في كتاب الوقف عن شيخه شيخ الإسلام: قول الفقهاء: نصوصه كنص الشارع يعني في الفهم والدلالة لا في وجوب العمل مع أن التحقيق أن لفظه ولفظ الموصي والحالف والناذر وكل عاقد يحمل على عادته في خطابه ولغته التي يتكلم بها وافقت لغة العرب ولغة الشرع أم لا ولا خلاف أن من وقف على صلاة أو صيام أو قراءة أو جهاد غير شرعي ونحوه لم يصح.
الفتاوى الهندية (2/ 462):
متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 433):
قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالةوجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 360):
(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد.(وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃ الرشید،کراچی
11/ ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


