| 83805 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں :
۱۔ ہمارےچھوٹے بھائی اسداللہ ولدحاجی محمدعبداللہ مرحوم وراثت میں 25ایکڑ رقبہ چھوڑ گئے مرحوم کا نکاح ہو چکا تھا ،رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ورثاء نے مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطران کی چھوڑی ہوئی زمین پر اسد الاسلام کے نام سے مدرسہ قائم کیا ،دو وارثوں کے علاوہ کچھ ورثاء نے اپنا مکمل حصہ اور کچھ ورثا ءنے جزوی حصہ وقف کیا،سرپرستی کے لئے اسد الاسلام کو جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کی شاخ بنادیا گیا اورشیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید کو سرپرست بنا گیا ،اسد الاسلام کے نام 16 ایکڑ رقبہ ہے جو چک نمبر TDA-221تحصیل ضلع لیہ میں واقع ہے اور اسی چک میں اسد الاسلام قائم کیا گیا،حضرت شیخ صاحب نےاسد الاسلام اور رقبہ پر سائل کو نگران مقرر کیا۔
2. مدرسہ چل رہا تھا 25 سے 30 طالب علم موجود تھے ،مفتی ضیاء الحق (ایک وقف کنندہ کا بیٹا ہے) کو پیشکش کی گئی کہ اسد الاسلام کو سنبھال لے،لیکن انہوں نے دار العلوم لیہ کلو چوک کے نام سے الگ مدرسہ قائم کر دیا ،اسد الاسلام کو بند کرکے طلباء اور علماء کو وہیں لے گئے ۔ چند سال بعد انہوں نے حضرت شیخ کی اجاز سے سے 8 ایکڑ رقبہ بھی لے لیا ،تمام واقفین نے دارالعلوم کلو چوک کو سپورٹ کیا ۔
3۔اسد الاسلام کا کمرہ جس جگہ بنایا گیا تھا وہ جگہ حاجی عبداللہ مرحوم کی ایک بیٹی کے حصے میں آئی، ](کیونکہ زمین وقف کرنے کے بعد ترکہ کی تقسیم کی تھی۔) سائل سے زبانی طور پر معلوم کیا[ اور اسد الاسلام بھی بند ہو چکا تھا ،اس لئے کمرہ اکھاڑنے کی بجائے ان کو بیچ دیا گیا۔
4۔اسد الاسلام کے بند ہونے کے بعد اس زمین کو ٹھیکہ پر دیتے تھے اور ٹھیکہ سے حاصل ہونے والے پیسوں میں سے ایک بڑا حصہ جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہیدکو دیا،کچھ رقم چند دوسرے مدارس کو دیا اور ایک کمرہ کی رقم بمعہ کچھ نقد پیسے سائل کے پاس ہے،جس کا حساب کتاب موجود ہے،سائل کار قم رکھنے کا مقصد اگر اللہ نے موقع دیا کسی دوسری جگہ پراسد الاسلام قائم کرے گا جس کی حضرت شیخ نے اجازت بھی فرمائی تھی۔
5۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ سائل نے قبضہ جامع شرف الاسلام چوک سرور شہید والوں کوواپس کیا،اب اس زمین کے 8 ایکڑ کو ثناءاللہ اور 8 ایکڑ کو خالد محمود نے ٹھیکہ پر لیا ہے اور جامع قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید کے ذمہ داران جو حضرت شیخ صاحب کے بیٹے ہیں انہیں سر پرست مان کر ٹھیکہ کا اسٹام بھی لکھ دیا،جامع شرف الاسلام کی طرف سے اسد الاسلام کا انتظام دارالعلوم کلو چوک کے سپرد کیا ہےجس کی زیر نگرانی مدرس مقرر ہے اور کلاس لگ رہی ہے۔
6۔اب تنازعہ شروع ہواہے،ایک فریق مفتی ضیاء الحق صاحب اور چند دوسرے وقف کرنے والے حضرات ہیں اور دوسرا فریق ثناء اللہ اور بعض وقف کرنے والے ہیں جو منظر عام پر نہیں آتے،ثناء اللہ نے بورڈ جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام کی زیر سر پرستی کا لگایاتھا،ان کے نوٹس میں دیے بغیر بورڈ اکھیڑ دیا ہے اوراپنے قبضہ والے رقبہ پر مدرسہ کی تعمیر کے لیے اینٹیں بھی رکھ دی ہیں۔
7۔جیسا کہ نمبر 1میں عرض کیا گیا ہے کہ اسد اللہ مرحوم کی منکوحہ موجود تھی،اس کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے وراثتی انتقال میں ہم نے اسکا نام نہیں دیا تھا،اس نے عدالت سے رجوع کیا تو ہم نے جعلی طلاق نامہ پیش کیا ،ہم نے اتفاق کر لیا تھا کہ منکوحہ کو حصہ نہیں دینا ،اس کیس کی پیروی سائل کے سپرد کی گئی،کیس طویل ہوگیا،بھائیوں نےخرچہ دینے سے انکارکردیا ،نقد رقم کے علاوہ سائل 5 ایکڑ زمین کیس میں کام آئی ،اب شریعت کی روسے رہنمائی فرمائیں کہ
منکوحہ(بیوہ) کا حق(زمین) غصب کرکے جو وقف کیا گیا،کیاوہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وقف کے صحیح ہونے کے لئے واقف کا شئی موقوفہ کا مالک ہونا ضروری ہے،لہذا اگر بیوہ کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر مدرسہ اسد الاسلام کے لئے دوسرے واقفین نے وقف کیا ہو ،تو اس بیوہ کے حصہ میں وقف لازم نہیں ہوگا اور بیوہ کو زمین واپس لوٹانا ضروری ہے،البتہ اگر بیوہ اپنی رضامندی سے اجازت دے دے تو اس حصہ میں بھی وقف لازم ہو جائے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 340):
(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز وصح وقف ما شراه فاسدا بعد القبض وعليه القيمة للبائع وكالشراء الهبة الفاسدة بعد القبض.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 730):
ومن شرائطه الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم ملكها لا يكون وقفا.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃ الرشید،کراچی
11/ ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


