03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بدعتی امام کی اقتداء میں مستقل طور پرنماز باجماعت پڑھنے کا حکم
83806نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

گھر کے بالکل سامنے بریلوی مکتب فکر (سید خادم حسین رضوی)  کی مسجد ہے،باقی دیوبند مکتب فکر کی مسجدیں گھر سے فاصلے پر ہیں جس میں خصوصا فجر اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کے لئےجانے میں دشواری ہوتی ہے اور راستے میں ڈاکوؤں کےلوٹنے اور کتوں کے کاٹنے کا خوف ہوتا ہے، اس لئے آپ سے معلوم کرناہے کہ اس طرح قریبی بریلوی مسلک کی مسجد میں نماز با جماعت پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز دین کا ستون ہے،نماز پڑھنے کے لئے کسی صحیح العقیدہ  اور متبع سنت امام کا انتخاب کرنا چاہئے، اگر بدعتی امام کے عقائدبلاتأویل کفریہ و شرکیہ (     اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی بھی صفت میں کسی کو شریک ٹھرائے جیسے کہ حضور اکرمﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ وغیرہ)ہو ں اور اس کے بارے میں  یقینی  پر معلوم  ہوں یا ظن غالب ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،لیکن اگر  یقینی طور پر معلوم نہ ہویا  ظن غالب نہ ہو پھر بھی ایسے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،لہذا  عشاء اور فجر کے لئے مستقل طور پر ایسے امام کا انتخاب کرنا کراہت سے خالی نہیں  ہوگا،اس لئے فجر اور عشاء کی نمازیں بھی دوسری نمازوں کی طرح کسی صحیح العقیدہ امام کے پیچھے پڑھنی چاہئیں۔

باقی راستے کی دشواریاں ختم ہوسکتی ہیں، وہ اس طرح کہ  اگر ڈاکو مال لوٹتے ہیں تو ان سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کرے کہ کوئی قیمتی اشیاء جیب میں نہ رکھے اور کتوں سے بچنے کے لئے اپنے ساتھ کوئی لاٹھی وغیرہ رکھے، اس سے سنت بھی اداء ہو جائے گی  اور کتوں سے بھی بچاجاسکتاہے،مزید یہ کہ جتنے زیادہ قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا،الا یہ کہ ڈاکوؤں کی طرف سے  اغواء  کئے جانے یا جان سے مارے جانے کا قوی اندیشہ ہو تو اس وقت  نماز اکیلے پڑھنے سے بہتر ہے کہ جماعت کے ساتھ قریب والی مسجد میں  پڑھی جائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 560):

(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة بدليل قبول شهادتهم، إلا الخطابية ومنا من كفرهم.

بدائع الصنائع (1/ 157):

وإمامة صاحب الهوى والبدعة مكروهة، نص عليه أبو يوسف في الأمالي فقال: أكره أن يكون الإمام صاحب هوى وبدعة؛ لأن الناس لا يرغبون في الصلاة خلفه، وهل تجوز الصلاة خلفه؟

قال بعض مشايخنا: إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 562):

وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة،

(قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» قال في الحلية: ولم يجده المخرجون نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعا «إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم».

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 108):

(والمبتدع) أي صاحب هوى لا يكفر به صاحبه حتى إذا كفر به لم تجز أصلا قال المرغيناني: تجوز الصلاة خلف صاحب هوى إلا أنه لا تجوز خلف الرافضي والجهني والقدري والمشبهة، ومن يقول: بخلق القرآن، والرافضي إن فضل عليا فهو مبتدع، وإن أنكر خلافة الصديق فهو كافر.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 369):

(قوله وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا) بيان للشيئين الصحة والكراهة أما الصحة فمبنية على وجود الأهلية للصلاة مع أداء الأركان وهما موجودان من غير نقص في الشرائط والأركان ومن السنة حديث «صلوا خلف كل بر وفاجر» ، ...فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيه، فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد وينبغي أن يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى ...

(قوله فالحاصل أنه يكره إلخ) قال الرملي ذكر الحلبي في شرح منية المصلي أن كراهة تقديم الفاسق والمبتدع كراهة التحريم، وأما العبد والأعرابي وولد الزنا والأعمى فالكراهة فيهم دون الكراهة فيهما ولا يخفى أن ما هنا أوجه لما تقدم من الدليل تأمل.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعہ الرشید،کراچی

11/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب