03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دباؤ کی حالت میں بغیر نیت کے لکھ کر طلاق دینا
83935طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

مفتی صاحب سوال میرا طلاق سے متعلق ہے، میری بیوی سرگودھا میں رہتی ہے،میں اس کو لینے سرگودھا گیا ہوا تھا تو میری بیگم مجھ سے ضد کر رہی تھی کہ میں پکا پکا سرگودھا آجاؤں اور میں کہہ رہا تھا کہ میں سرگودھا نہیں آسکتا، میں پنڈی ہی رہوں گا، پنڈی آ جاؤ میں تمہیں علیحدہ گھر لے کے دینے کے لیے تیار ہوں، لیکن میں سرگودھا پکا پکا نہیں آ سکتا ، وہ کہہ رہی تھی اگر پکا پکا سرگودھا آپ نہیں آسکتے تو مجھے طلاق دے دو ، میں دونوں باتیں نہیں مان رہا تھا میں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے ساتھ پنڈی آجائے میں اسے الگ گھر لے کر دوں گا وہ کافی پریشان اور دباؤ میں تھی اور بار بار مجھے کہہ رہی تھی کہ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں میں تم سے پیار کرتی ہوں، میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتی اور تمہارے بغیر رہ نہیں سکتی۔ میں نے اپنی بیگم کو سمجھایا کہ میں پنڈی میں رہتا ہوں ،میری فیملی یہاں پر رہتی ہے، میری جاب یہاں پر ہے میرے بہت سارے معاملات یہاں پنڈی میں چل رہے ہیں، اس کے علاوہ میری دو بہنیں ہیں، گھر پہ بھائی ہیں گھر پہ میرے  ساتھ رہتے ہیں ،جو فائننشلی اتنے سٹرانگ نہیں ہیں، گھر میری وجہ سے چلتا ہے وغیرہ وغیرہ میرے کافی سمجھانے کے بعد بھی وہ نہ مانی میں بہت تھک چکا تھا، میں دو دن سے مسلسل جاگ رہا تھا اور سویا نہیں تھا اور کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ لوکل سفر کرنے اور شدید گرمی میں پیدل چلنے کی وجہ سے گرمی کا غبار میرے سر پر بہت زیادہ تھا، میرے سر میں شدید درد ہو رہا تھا اور میرا سر چکرا رہا تھا۔

 میری بیگم بھی بہت ڈسٹرب لگ رہی تھی اور بہت پریشان تھی اور مجھے کہہ رہی تھی کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی یا کچھ اپنے ساتھ برا کر لوں گی تم سب لوگ مجھے ڈھونڈتے رہ جاؤ گے اور کبھی چھری اٹھا کر اپنے آپ کو مارنا سٹارٹ کر دیتی تھی کہ میں اپنے آپ کو مار لوں گی کوئی بھی میری پرابلم کو نہیں سمجھ رہا ،میں نے اپنی بیگم کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور اس کو آرام سے بٹھایا وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور پھر اچانک اس نے مینٹلی سٹریس کی وجہ سے چیخ و پکار شروع کر دی، اس کے گھر والے پریشان ہو گئےکہ یہ کیا ہو گیا؟ میں بھی گھبرا گیا کہ یہ کیا ہو گیا؟  میں نے اپنی بیگم کو نارمل کرنے کی کوشش کی کہ آپ نارمل ہو جائیں اور آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں، اچھا قریب ہو جاؤ وغیرہ وغیرہ، میری بیگم کی چیخ و پکار سن کر اس کی فیملی نے بھی چیخ و پکار شروع کر دی اور مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہتے ہیں اس سے ابھی کے ابھی طلاق لو اور اس کو جوتے مار کے باہر نکالو۔

اسی چیخ و پکار میں میری بیگم کی بڑی بہن نے مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی مجھے یاد نہیں کہ وہ مجھے لگا تھا یا نہیں، اس کے بعد انہوں نے میرے منہ پہ کاپی اور پینسل ماری اور کہا کہ ابھی کہ ابھی طلاق دو پھر میری بیگم نے میرا لیپ ٹاپ میرے منہ پہ مارا اور کہا کہ ابھی فیصلہ سناؤ مجھے بہت برا لگا اور میں سکتے میں چلا گیا کہ یہ سب میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر وہاں سے جانے کی کوشش کی تو اس کی والدہ نے مجھے زبردستی بٹھایا اور کہا کہ نکاح بھی میں نے ہی کرایا تھا اور طلاق بھی میں ہی دلواؤں گی اور کاپی اور پینسل میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ ابھی کے ابھی طلاق یہاں پر لکھو۔ وہ سب مکمل طور پر میرے اوپر حاوی ہو چکے تھے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ایسے جیسے میں مکمل ان کے کنٹرول میں آ چکا ہوں،   میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں کسی بات کا ری ایکٹ کر سکتا یا میں اتنا ہی کہہ دیتا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا یا میں طلاق نہیں دوں گا، ایسے جیسے میرا دماغ سن ہو چکا ہے۔

 جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ اس کی والدہ نے مجھے کاپی اور پینسل  پکڑایا اور کہا کہ یہاں پر طلاق لکھ کر دو۔ میری بیگم کا نام عابدہ ہے تو میں نے اس پیپر پر تین دفعہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ جملہ لکھا کہ میں عابدہ کو طلاق دیتا ہوں نیچے سائن کیے اور اس دن کی ڈیٹ ڈالی۔ لکھتے وقت میری بالکل بھی نیت طلاق دینے کی نہ تھی اور میں اپنی طرف سے لفظ طلاق غلط لکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ طلاق واقع نہ ہو، لیکن بعدمیں مجھے پتہ چلا کہ لفظ طلاق میں نے پیپر پر ٹھیک لکھا ہے۔ طلاق لکھنے سے پہلے مجھے بیگم نے تھپڑ مارے اور پھر تین دفعہ طلاق لکھنے کے بعد پھر مجھے بیگم نے تھپڑ مارے اور اس کے بعد میں گھر سے باہر آگیا۔

اس فیملی کے ساتھ مسلسل یہ میرا دوسرا واقعہ ہے جس میں میں سکتے میں چلا گیا یا میرا دماغ سن ہوگیا،جس میں مجھے کچھ سمجھ نہ آئے کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے اور ایسے جیسے میں ہکا بکا رہ گیا  ہوں، ایسے میں ریکٹ نہیں کر پاتا ۔  مسلسل دو واقعات سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، جب بھی کبھی یہ میرے ساتھ بدتمیزی کرتے تھے یا کوئی غلط بات کرتے تھے تو میں بہت غصے میں بات کرتا تھا اور ری ایکٹ کرتا تھا اور ہر بات کا جواب دیتا تھا۔

جب سے اس کی بہن اور اس کی ماں نے مجھے محلے والوں کے سامنے تھپڑ مارے تو اس کے بعد میں ان کی کسی بھی بات پر ری ایکٹ نہیں کر پاتا یا کسی بھی بدتمیزی کا جواب کسی بھی ناجائز بات کا یا بری بات کا ٹھیک سے رسپانس نہیں کر پاتا۔

پہلاواقعہ اس طرح ہواکہ میں اپنی بیگم کوسرگودھا لینے گیا ہوا تھا، میرے لاکھ منانے اور سمجھانے کے باوجود وہ میرے ساتھ پنڈی نہیں آرہی تھی،اس کی فیملی نے مجھے بہانے سے گھر سے باہر نکالا اور یہ کہا کہ ہم اب کہیں افطاری پر جا رہے ہیں، ہم سب گھر کے باہر دروازے پر موجود تھے، میں بضد تھا کہ میری بیگم میرے ساتھ گھر چلے میں نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور بیگم کو کہا کہ میرے ساتھ چلو میں بیٹی کو دور لے کر جا رہا تھا اور بیگم میرے پیچھے پیچھے تھی کہ بیٹی مجھے دو تو جب میں بیٹی بیگم کے ہاتھ میں دے رہا تھا تو اس کی بہن اور اس کی ماں نے مجھے سب محلے والوں کے سامنے تھپڑ مارے اور مجھ سے بیٹی لے لی جس کی وجہ سے میں سکتے میں چلا گیا اور میں ہکا بکا رہ گیا اور میرے اندر اتنی ہمت نہ ہوئی کہ کسی بات کا میں اس وقت جواب دے پاتا، اس شرمندگی اور اس بےعزتی کی وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے میں جیتے جی مر گیا ہوں یا میرے پاؤں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ میں وہاں پر کسی بھی بات پر ری ایکٹ نہ کر سکا اور میں وہاں سے چپ کر کے شرمندہ ہو کر اپنی بچی کچی عزت بچائے واپس پنڈی اگیا اس واقعے کی شرمندگی ڈر خوف میرے دل میں بیٹھ چکا تھا۔

مفتی صاحب میں یہاں پر اپنے بارے میں ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا کہ جب بھی کبھی مجھے زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے یا مجھے بہت زیادہ بےعزتی فیل ہو تو وہاں پر میں بول نہیں پاتا، میری ہمت ختم ہو جاتی ہے میں اپنی بات کو ڈیفینڈ نہیں کر پاتا ،کبھی کبھی جسم کانپنے لگتا ہے،اگر بولوں تو زبان لڑکھڑانے لگتی ہے مجھے رونا آ جاتا ہے اور میرے اندر چپ سی لگ جاتی ہے میں کسی بھی بات پر ری ایکٹ نہیں کر پاتا یا کچھ بھی نہیں کر پاتا ایسے جیسے میرا دماغ سن ہو گیا ہے۔ میرے اوپر خوف اور ڈر کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

 یہ مسئلہ میں اپنے ساتھ بچپن سے ہی محسوس کر رہا ہوں اور ابھی تک میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے یہ میرے ساتھ پہلی دفعہ یا دوسری دفعہ نہیں ہو رہا ہر دفعہ میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، چاہے دوستوں میں ہو، چاہے آفس میں ہو چاہے گھر میں ہو یا کہیں بھی ہو مجھے ایسا ہی فیل ہوتا ہے یہ میری طبیعت کا حصہ ہے۔

مفتی صاحب آپ سے درخواست ہے کہ تمام دی گئی تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے فتوی جاری کریں اور بتائیں کہ میری طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ بہت شکریہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً آپ نے انتہائی پریشانی اوران کے دباؤ میں آ گئےتھے اور آپ کی اہلیہ اور ساس وغیرہ نے آپ کو طلاق کے الفاظ لکھنے پر مجبور کیا تھا تو اس صورت میں بغیرنیت کے طلاق کے الفاظ لکھنے اور دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بشرطیکہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں۔ البتہ آئندہ کے لیے ایسی حالت میں طلاق کے الفاظ لکھنے سے احتیاط کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر،بيروت:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

فتاوى  قاضي خان(1/ 416) مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (6/ 129) دار الفكر-بيروت:

(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا إلا على المذاكير والعين بزازية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 141) دار الفكر-بيروت:

 منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.

قلت: ويؤخذ منه جواب حادثة الفتوى: وهي زوج بنته البكر من رجل فلما أرادت الزفاف منعها الأب إلا أن يشهد عليها أنها استوفت منه ميراث أمها فأقرت ثم أذن لها بالزفاف فلا يصح إقرارها لكونها في معنى المكرهة وبه أفتى أبو السعود مفتي الروم قاله المصنف في شرح منظومته تحفة الأقران في بحث الهبة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

18/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب