03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرائز بانڈ زکے ذریعہ تجارت کا حکم
84422سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

پرائز بانڈ زکے ذریعہ تجارت کا حکم ارشاد فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پرائز بانڈز سود اور جوئے کا مجموعہ ہے ، لہذا پرائز بانڈ ز کے ذریعے تجارت کرنا یعنی کمی یا زیادتی کے ساتھ ان کی خرید و فروخت کرنا اور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا شریعت کی رو سے  ناجائز اور حرام ہے۔جس کی مختصر وضاحت  یہ ہےکہ پرائز بانڈ کے عوض دی گئی رقم قرض ہوتی ہے جو کہ اضافے کے ساتھ واپس لوٹائی جاتی ہے ، جبکہ قرض پر اضافی نفع حاصل کرنا سود ہے ۔

اسی طرح حاملین ِپرائز بانڈ کی یہ طمع ہوتی ہے کہ قرعہ اندازی کے ذریعےان کو اصل رقم پرزائدانعام مل جائے گا،جس کے ملنے اور نہ ملنے دونوں کا احتمال ہوتا ہے، جو کہ جوا کی صورت ہے۔

لہٰذا پرائز بانڈ سے حاصل ہونے والی انعامی رقم "سود "اور"جوئے" پر مشتمل ہونے کی بنا پر حرام ہے۔البتہ شدید مجبوری میں بانڈز ہولڈ   کمی یا زیادتی کے بغیر اصل رقم  کے عوض کسی دوسرے کو بانڈز فروخت کرسکتا ہے، اضافی رقم وصول کرنا اور استعمال کرناخریدار کے لیے بھی جائز نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایہ: 90):

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo

صحیح مسلم: (227/2):

عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء.

رد المحتار: (مطلب کل قرض جر نفعا، 166/5، ط):

 قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله: (كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا، كما علم مما نقله عن البحر. وعن الخلاصة، وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.

اعلاء السنن: (کتاب الحوالة، 513/14، ط):

" قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة أو هدیة فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا".

رد المحتار: (کتاب الحظر و الاباحة، 403/6، ط):

(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص"

بحوث في قضایا فقهیة معاصرة: (بیع الدین والأوراق المالیة: 2/ 111، ط):

"السند (BONDS) في الإصطلاح المعاصر وثیقة یصدرها المدیون لمقرضه اعترافًا منه بأنّه استقرض من حاملها مبلغًا معلومًا یلتزم بأدائه في وقت معلوم… وإنّ هذہ السندات، سواء أصدرتها الشرکات أو أصدرتها الحکومة إنّما تلتزم بأداء فوائد ربویة إلی من یحملها، فالسند الّذي قیمتة الإسمیة مائة ربیة مثلاً تستحق أن یدفع لحاملها مائة و عشرة بعد سنة۔"

  عبدالرحمٰن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

25/محرم ا لحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب