| 82962 | نکاح کا بیان | نکاح کی وکالت کابیان |
سوال
لڑکا یورپ میں رہتا ہے اور وہیں سے فون پر نکاح کر کے لڑکی کو وہاں بلانا چاہتا ہے۔تو کیا فون پر نکاح ہو جائےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے لیے ضروری ہے کہ مجلس نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا جائے، جبکہ فون پر یہ سب ممکن نہیں لہذا فون پر نکاح نہیں ہو سکتا۔البتہ اگر مجبوری ہو تو اس کی ممکنہ صورت یہ ہے کہ لڑکا کسی شخص کو اپنا وکیل بنا دے ،جو لڑکے کی طرف سےمجلس نکاح میں گواہوں کے سامنے ایجاب یا قبول کر لے تو نکاح درست ہو جائے گا۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله تعالى :شرائط الإيجاب والقبول فمنها:اتحاد المجلس، إذا كان الشخصان حاضرين، فلو اختلف المجلس لم ينعقد. فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان ،فجعل المجلس جامعا تيسيرا.(البحر الرائق:3/ 89)
قال جمع من العلماء رحمه الله تعالى:يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية:1/ 294)
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:ومن شرائط الايجاب القبول: اتحاد المجلس لو حاضرين وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الايجاب القبول كقبلت النكاح المهر. (الدر المختار:/1178)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى :قوله: (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا.( رد المحتار:3/ 14)
ہارون عبداللہ
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی
20 رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


