| 85024 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
اگر مقتدی قعدہ اخیرہ میں امام سے پہلے فارغ ہوجائے تو امام کے سلام پھیرنے تک مقتدی کےلیے خاموش رہنا اولی ہے یاپھر دعا وغیرہ پڑھنا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قعدہ اخیرہ میں اگر مقتدی نے امام سے پہلے تشہد پڑھ لیا تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر مقتدی مدرک (شروع سے امام کے ساتھ شریک ) ہے، تو وہ تشہد درود اور دعا کے بعد مزید درود شریف یا وہ دعا ئیں پڑ ھ سکتا ہے ، جو قرآن وحدیث میں منقول ہیں۔ اور اگر مقتدی مسبوق ہو یعنی ( جس کی کچھ رکعتیں نکل گئی ہوں) تو اس کے لئے حکم یہ ہےکہ وہ قعدہ اخیرہ میں التحیات اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑ ھے گا، کہ امام کے سلام پھیرنے تک ختم کر لے، اور اگر اس نے اما م سے پہلے التحیات مکمل کر لی ہو تو پھر خاموش رہے گا یا ایک قول کے مطابق تشہد)اشھد ان لا اله الا الله(کو آہستہ آہستہ دہرانا بھی جائز ہے۔
حوالہ جات
خلاصةالفتاوي (1 /160):
المقتدي إذا فرغ من التشهد في القعدة الاخيرة قبل إلامام واشتغل بالصلوات والدعوات فلما فرغ الإمام وهوقد قرأالدعوات لا يكره۔
الفتاوی الهنديۃ (1/149):
ومنها أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات ثم ماذا يفعل تكلموا فيه وعن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله أشهد أن لا إله إلا الله وهو المختار كذا في الغياثية والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتى يفرغ عند سلام الإمام كذا في الوجيز للكردري وفتاوى قاضي خان وهكذا في الخلاصة وفتح القدير۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
11/ ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


