03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اوری فلیم سوئیڈن(Oriflame Sweden) کمپنی کا حکم
85531اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

اوریفلیم سویڈن (Oriflame sweedan) ایک ایسا سسٹم ہے جو مر دو خواتین کو گھر میں ہی کام کے ساتھ ساتھ ان کی اسکلز میں اضافے کے لیے مختلف طرح کی اسکلز کی فراہمی کرتا ہے اور ان کی فنی تربیت بھی کرتا ہے، یہ سسٹم ان کو روزگار کے ساتھ ساتھ فنی اور معاشی تربیت کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔اس حوالے سے آپ سے درخواست ہے کہ آپ با قاعدہ تحریری صورت میں Oriflame Sweedan " کےنام پر ایک فتوی جاری کر دیں تاکہ ایسے خواتین و حضرات جو اس سسٹم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتےہیں،ان کے کام پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہو۔ یعنی اس کام کو حرام کام کہنے والا کوئی نہ ہو۔ بہت سے مرد و خواتین کاروزگار آپ کے اس فتوے پر منحصر ہے۔ یہ سسٹم گوگل اکاؤنٹ اوپن کرتا ہے،پھر اس اکاؤنٹ کو کھلوانے کے لیے جو مختلف طرح کے پیسے یہ وصول کرتا ہے،وہی پیسے ڈائریکٹ ان ڈائر یکٹ ٹیم کی آمدن کا سبب بنتے ہیں۔سسٹم میں مختلف طرح کے رینکس ہوتے ہیں،بزنس ممبر ڈائریکٹ انکم کا 36 فیصد وصول کرتا ہے،سلور ممبر 18فیصد وصول کرتا ہے اور اسی طرح اوپر کے جتنے بھی رینکس ہوتے ہیں وہ اس انکم کا 6 فیصد وصول کرتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹ ممبر کی سسٹم میں شناخت کے حوالے سے ہوتا ہے۔ اس اکاؤنٹ میں ممبر کی ور کنگ کے ساتھ ساتھ انکم کی تمام تفصیلات موجود ہوتی ہیں،یہ اکاؤنٹ ممبر خود استعمال کرتا ہے،اس کا تمام ور کنگ اور ارننگ کاڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ یہ سسٹم ڈائریکٹ،ان ڈائر یکٹ دیگر ٹیم لیڈرز کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتا ہے۔ ان کے کام میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مختلف طرح کے آئیڈیاز ان کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں تاکہ ان کے کام میں نہ صرف آسانی پیدا کی جاسکے بلکہ انہیں اس سسٹم کا کامیاب اور بہترین لیڈر بھی بنایا جا سکے تاکہ وہ گھر ہی میں بیٹھے ہوئے اپنی اسکلز میں بھی اضافہ کریں اور اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کر سکیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دستیاب معلومات کے مطابق اوری فلیم سوئیڈن(Oriflame Sweden) ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جوخوبصورتی(beauty) اور ذاتی نگہداشت(Personal care) کی مصنوعات کی تیاری میں مہارت رکھتی ہے۔ یہ کمپنی 1967 عیسوی میں سویڈن کے شہرشف ہاؤ زن(Schaffhausen) میں قائم ہوئی،اس کا مقصد لوگوں کو قدرتی اجزاء پر مبنی مصنوعات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی جمالیاتی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں۔

اوری فلیم سوئیڈن(Oriflame Sweden)  کی مصنوعات میں مختلف قسم کے بیوٹی کیئر پروڈکٹس شامل ہیں، جیسے کہ چہرے کی کریم، میک اپ کی مصنوعات، شیمپو، باڈی لوشن، خوشبوئیں اور دیگر ذاتی نگہداشت  کی اشیاء وغیرہ۔

اوری فلیم سوئیڈن(Oriflame Sweden) کمپنی نیٹ ورک مارکیٹنگ ماڈل استعمال کرتی ہے،اور نیٹ پر موجود دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ کمپنی کا نیٹ ورک مارکیٹنگ ماڈل وہی ہے جو مروجہ ملٹی لیول مارکیٹنگ یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنیز کا ہوتا ہے،اورمروجہ ملٹی لیول مارکیٹنگ یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنیز کا حصہ بننا چار وجوہ سے ناجائز ہےاور تقریباًوہ چاروں وجوہات مذکورہ کمپنی میں بھی پائی جاتی ہیں:

۱۔ایک عقد دوسرے عقد کے ساتھ مشروط ہے جوکہ شرعاًناجائز ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ  نظام(system) میں لوگوں کو مصنوعات فروخت کروا کر کمیشن لینا اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے،جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے،لہٰذا اگرمصنوعات نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا،یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقدمشروط طورپر جمع کیا جاتا ہے ،جوکہ شرعاً ناجائز ہے۔

۲۔بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا،اس کی تفصیل یہ ہے کہ  مذکورہ  نظام(system) میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا، جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے، وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہے،یا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

۳۔قمار یعنی جوے کا ہونا،جس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ  نظام(system)میں اکثر شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اورمصنوعات خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے لہذا یہ لوگ رقم مصنوعات خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیےرقم لگاتے ہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی جائے گی، یہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔

۴۔حق مجرد کی بیع ہونا،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ  نظام(system) میں مصنوعات کی خریداری کا مقصد مصنوعات نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی بیع ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک  حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہوتی۔

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نام سے رائج مختلف اسکیمیں یا کسی اور نام سے مذکورہ  نظام(system)کی طرح کی رائج اسکیمیں، مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہیں،لہٰذا اس طرح کی کاروباری اسکیمیں شروع کرنا یا اس کاحصہ بننا جائز نہیں ہے۔

وضاحت:اوری فلیم سوئیڈن(Oriflame Sweden)  کمپنی سے متعلق مذکورہ جواب دستیاب معلومات کے مطابق لکھا گیاہے،جس کا تفصیلی ذکر جواب میں کیا گیا ہے،لہٰذااگر مذکورہ کمپنی کا طریقہ کار جواب میں مذکور طریقہ کار سے مختلف ہو تو اس طریقہ کار کی مستندتفصیلی معلومات حاصل کرکے کسی مستند دارلافتاء سے دوبارہ حکم معلوم کرلیا جائے۔

حوالہ جات

(وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔.(الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)

وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)

وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.(المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) .(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)

لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد حمزہ سلیمان

 دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۱۶.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ                                            

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب