03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کلک کرکے پیسہ کمانے کا حکم
85862اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ آج کل مختلف قسم کے آن لائن کاروبار متعارف کروائے جا رہے ہیں ،ان میں سے ایک کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے موبائل کے ذریعے 3200 یا  6000 روپے یا اس سے کم یا زیادہ رقم منتقل کرنا پڑتی ہےاور روزانہ اس App پر موجود پراڈکٹ لسٹ میں سےکسی دو پراڈکٹ پر کلک کرنا پڑتا ہے، جس کے بدلے میں وہ رقم کے حساب سے منافع دیتے رہتے ہیں ،یعنی 3200 روپے پر روزانہ 120 روپے اور زیادہ رقم کی صورت میں زیادہ منافع دیتے ہیں  اور کلک نہ کرنے کی صورت میں منافع نہیں دیتے ۔نیز اگر کسی وجہ سے پروگرام چھوڑ دیا تو ادا شدہ رقم واپس دی جاتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار کرنا جائز ہے ؟اور اس سے جو منافع کلک کرنے سے ملتا ہے، وہ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اشتہارات دیکھنے(کلک کرنے) کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے،جس میں اشتہار دیکھنے والے کو اشتہار دیکھنے کی اجرت دی جاتی ہے،یہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے، اس کے برعکس اکثر یہ کام جعل سازی کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثلاً عام طور پرکمپنیاں اشتہار بازی (Advertisement) اس لیے  کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہو سکے،  جبکہ یہاں کسی کمپنی کو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کی پراڈکٹ یا ایپلیکیشن تک اتنے لوگوں کی رسائی ہے، حالانکہ وہ لوگ اپنے معاوضے کے لیے اشتہار دیکھ رہے ہوتے ہیں،اور حقیقت میں اشتہار دیکھنے والے (کلک کرنے والے) چند افراد ہوتے ہیں لیکن ظاہر یہ کیا جارہا ہوتا ہے کہ کئی سارے افراد ہیں اور حقیقی افراد ہیں جوکہ خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں،حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا،ایسا کرنا دھوکادہی کے زمرے میں آتا ہےجوکہ ناجائز ہے،اسی طرح سوال میں ذکر کردہ  طریقے کے مطابق اشتہارات دیکھنے کے کام کے لیے پہلے  کچھ رقم دینی پڑتی ہے،جو حقیقتاً اجارے (ملازمت) کے حق کو خریدنا ہے، یہ حق مجرد کی بیع ہے یعنی بلا کسی عوض ادائیگی کی ایک صورت ہے اور اکل بالباطل اور رشوت کے زمرے میں آتی ہے، یہ جائز نہیں  ہے اور اس سے اجتناب لازم ہے،لہٰذا مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اجرت حاصل کرنے کے لیے اشتہارات دیکھنا (کلک کرنا)جائز نہیں ہےاور اس کی آمدن  بھی شرعاً ناجائز ہے۔

رہی بات کہ شروع میں ادا کی گئی رقم بعد میں واپس کردی جاتی ہے،ہماری معلومات کے مطابق ایسا نہیں ہوتا،بہرحال اگر شروع میں ادا کی گئی رقم واپس کر دی جاتی ہو تب بھی دیگر مذکورہ شرعی مفاسد کی وجہ سے آمدن حلال نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."

علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."

(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.

(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، مقالة الشيخ محمد تقي العثماني، 5/1931)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

12.جمادی الآخرۃ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب