03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار سے متعلقہ لوگوں پر ادھار وراثتی مال میں شامل کرنے کاحکم
86765میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

   ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ وفات پا چکے ہیں. اورہم کل چھ بہن بھائی ہیں. تین بھائی اور تین بہنیں. ہماری والدہ محترمہ حیات ہیں.والد صاحب کی تقسیمِ جائیداد کے حوالےسے چند سوالات کے جوابات مجھےالحمدللہ دارالافتاء سے مل گئے ہیں بس ایک سوال رہتاہے اوروہ یہ ہے کہ اس وقت گھر میں والد صاحب کے دو کاروبار ہیں ایک پولٹری سپلائی کا اور دوسرا الیکٹرونکس کا،توپوچھنایہ ہے کہ

 بہت سا  ادھار  پولٹری سپلائی کے کاروبار سے منسلک ہے یعنی لوگوں پر ہمارا قرض ہے تو کیا  ایسی صورت میں یہ ادھار  سب ورثہ  پر تقسیم ہوگا یا اسی  کے حصے میں آئے گا کہ جو اس کاروبار کو سنبھالے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورقرض ترکہ کا حصہ ہے، لیکن اس کی تقسیم وصولی سے پہلے جائز نہیں ہے، اس لیے کہ شرعاً مدیون کے علاوہ کسی اور کو اس کا مالک بنانا جائز نہیں ہوتا، جبکہ ترکہ کی تقسیم میں ایسا کرنا لازم آئے گا۔ اس لیےکہ تقسیم میں معاوضہ کا معنی بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ ہر وارث باقی ورثہ کے پاس جانے والا اپنا حصہ ان پر فروخت کرتا ہے اور اس کے بدلے باقی ورثہ کا اس کے پاس آنے والا حصہ خرید رہا ہوتا ہے۔ یوں یہ مبادلہ ہے، جس میں وہ اپنا حصہ دین، مدیون کے علاوہ دیگر ورثہ، جو غیر مدیون ہیں، پر فروخت کر رہا ہے، اور یہ "تملیک الدین من غیر من علیہ الدین" کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

لہٰذا، ترکہ میں موجود دین وصولی سے پہلے تقسیم نہیں ہوسکتا، اس لیے یا تو اسے مشترک رکھا جائے، جس کی وصولی کی ذمہ داری سب کی مشترکہ ہو، اور جو حصہ وصول ہوتا رہے، اسے حسبِ حصص تقسیم کیا جاتا رہے۔ وصولی کے لیے یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ تمام ورثہ کسی ایک وارث کو وکیل بنا دیں، جو وصولی کے بعد اسے حسبِ حصص تقسیم کرتا رہے۔

دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ باقی ورثہ میں ہر ایک، کاروبار سنبھالنے والے وارث سے اپنے حصے کے دین کے بقدر کوئی عینی چیز خرید لے اور اس کی قیمت کے طور پر اپنے اپنے حصے کا دین اس کے حوالے کر دے کہ فلاں پر میرا اتنا دین ہے، آپ میرا وکیل بن کر اس سے وہ میرے لیے وصول کر لیں اور پھر اسے  قیمت میں شمار کرکے اپنے پاس رکھ لیں۔ لیکن یہ شرط تقسیم میں ذکر نہ کی جائے، بلکہ تقسیم کے آگے پیچھے یہ کام کیا جائے۔

تیسرا حل یہ ہوسکتا ہے کہ ہر وارث کا جتنا حصہ دین میں بنتا ہے، اس کے بقدر کاروبار سنبھالنے والے بھائی سے قرض لے اور پھر اس کو اپنے حصے کے دین کا حوالہ دے دے کہ فلاں پر میرا اتنا دین ہے، آپ میرا وکیل بن کر اس سے وہ میرے لیے وصول کر لیں اور پھر اسے  اپنے قرض میں محسوب کر کے رکھ لیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ حل ہوسکتے ہیں، لیکن وہ زیادہ مفید نہیں ہیں۔

مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں، اگر مدیون سےافلاس وغیرہ کی وجہ سے دین وصول نہ ہو سکے تو دین ذمہ میں لینے والا وارث متعلقہ دیگر ورثہ کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (15/ 69)

(قال: - رحمه الله - وإذا كان في الميراث دين على الناس فأدخلوه في القسمة لم يجز؛ لما بينا أن من وقع الدين في نصيبه يكون متملكا على أصحابه نصيبهم من الدين بعوض وتمليك الدين من غير من عليه الدين بعوض لا يجوز) وكذلك لو اقتسموا الدين فأخذ كل واحد منهم من حقه فيها دينا على رجل خاصة لم يجز؛ لأن كل واحد منهم مملك نصيبه مما في ذمة زيد من صاحبه لم يتملك عليه من نصيبه مما في ذمة عمر وإذا كان تمليك الدين من غير من عليه الدين لا يجوز بعوض عين فلان لا يجوز بعوض دين أولى، وكذلك إن كان الدين كله على رجل واحد فقسمتهم فيه قبل القبض باطلة؛ لأن القسمة حيازة ولا يتحقق ذلك فيما في الذمة.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 131)

(قوله والقسمة إلخ) قال العيني بأن كان للميت دين على الناس فاقتسموا التركة من الدين والعين وشرطوا أن يكون الدين لأحدهم والعين للباقين فهذا فاسد وصورة تعليقها بالشرط بأن اقتسموا الدار وشرطوا فيها رضا فلان فهذا فاسد أيضا؛ لأن القسمة فيها معنى المبادلة فصار كالبيع فيبطل بالشرط الفاسد اهـ.

البناية شرح الهداية (10/ 39)

قال: وإن كان في التركة دين على الناس فأدخلوه في الصلح على أن يخرجوا المصالح عنه ويكون الدين لهم فالصلح باطل؛لأن فيه تمليك الدين من غير من عليه.

الفتاوى الهندية (4/ 269)

 فإن كان في التركة دين على الناس فصولحت على الكل على أن يكون نصيبها من الدين للورثة أو صولحت عن التركة ولم ينطقوا بشيء كان الصلح باطلا فإن طلبوا يجوز هذا الصلح على أن يكون نصيبها من الدين للوارث فطريق ذلك أن تشتري المرأة عينا من أعيان الوارث بمقدار نصيبها من الدين ثم تحيل الوارث على غريم الميت بحصتها من الدين يعقدون عقد الصلح بينهم من غير أن يكون ذلك شرطا في الصلح، كذا في الظهير.

فتاوى قاضيخان (3/ 41)

 فإن طلبوا تجويز هذا الصلح على أن يكون نصيبها من الدين للوارث فطريق ذلك ان تشتري المرأة من الوارث

عينه من أعيان الوارث بمقدار نصيبها من الدين ثم تحيل الوارث على غريم الميت بحصتها من الدين.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 51)

والأوجه منه أن يبيعوه كفا من تمر أو نحوه بقدر الدين، ثم يحيلهم على الغرماء، أو يحيلهم ابتداء من غير

بيع شيء ليقبضوه له، ثم يأخذوه لأنفسهم.

البناية شرح الهداية (10/ 39)

وإن شرطوا أن يبرأ الغرماء منه ولا يرجع عليهم بنصيب المصالح فالصلح جائز؛ لأنه إسقاط أو هو تمليك الدين ممن عليه الدين وهو جائز، وهذه حيلة الجواز. وأخرى أن يعجلوا قضاء نصيبه متبرعين. وفي الوجهين ضرر لبقية الورثة، والأوجه أن يقرضوا المصالح مقدار نصيبه ويصالحوا عما وراء الدين ويحيلهم على استيفاء نصيبه من الغرماء.

ملتقى الأبحر (ص: 439)

وإن في التركة دين على الناس فأخرجوا ليكون الدين لهم بطل الصلح، فإن شرطوا براءة الغرماء من نصيبه صح، وكذا إن قضوا حصته منه تبرعا، أو أقرضوه قدرها وأحالهم به على الغرماء وصالحوه عن غيره.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 708)

 (تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا) في ثلاث: حوالة، وصية، و (إذا سلطه) أي سلط المملك غير المديون (على قبضه) أي الدين (فيصح) حينئذ.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 286)

تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا في ثلاث حوالة ووصية وإذا سلطه أي سلط المملك غير المديون على قبضه أي قبض الدين فيصح شرح التنوير للعلائي أواخر كتاب الهبة ومثله في الأشباه من أحكام الدين.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 88)

تمليك الدين من غير من عليه الدين باطل 6 - إلا إذا سلطه على قبضه.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 244)

المقصود التوصل إلى الاستيفاء من المحل الثاني على الوجه الأحسن، وإلا لم ينتقل عن الأول فصارت السلامة من المحل الثاني كالمشروط في العقد الأول، فإذا لم يحصل المشروط عاد حقه على الأصيل فصار كما لو صالح على عين فهلكت قبل التسليم يعود الدين لأن البراءة ما ثبتت مطلقة بل بعوضِ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۳/۸/۱۴۴٦ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب