| 86645 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا ہے ،جس کے ورثہ میں ایک بیوی،تین بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں،شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ان ورثہ میں مرحوم کا ترکہ کس نسبت سے تقسیم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔
میراث کے 104حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے13حصے بیوی کے ہوں گے، 14 حصے ہربیٹے کو ملیں گے،تینوں بیٹوں کے کل حصے42 ہوں گے۔ اور7 حصے ہربیٹی کو ملیں گے،سات بیٹیوں کے کل 49 حصے ہوں گے.
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
13 |
12.5 |
2 |
بیٹا |
14 |
13.4615 |
3 |
بیٹا |
14 |
13.4615 |
4 |
بیٹا |
14 |
13.4615 |
5 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
6 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
7 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
8 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
9 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
10 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
11 |
بیٹی |
7 |
6.7307 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


