| 86646 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت کا انتقال ہوا ،جس کے ورثہ میں اس کے خاوند،دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں،شرعا میراث کی تقسیم کے حوالے سے راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحومہ کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔
میراث کے 28حصے بنائے جائیں گے،7حصے شوہر کوملیں گے،6 حصے ہربیٹے کو ملیں گے،دونوں بیٹوں
کے کل حصے12 ہوں گے۔ اور3 حصے ہربیٹی کو ملیں گے،تین بیٹیوں کے کل 9 حصے ہوں گے.
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
شوہر |
7 |
25 |
2 |
بیٹا |
6 |
21.4285 |
3 |
بیٹا |
6 |
21.4285 |
4 |
بیٹی |
3 |
10.7142 |
5 |
بیٹی |
3 |
10.7142 |
6 |
بیٹی |
3 |
10.7142 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


