| 86647 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بچوں پر والدین کے حقوق کیا ہیں ؟شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدین کے اولاد پر بہت سے حقوق ہیں،ان میں سے چند ذکر کیے جاتے ہیں:۔
1. والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا"(سورہ الإسراء: 23)
ترجمہ: "اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔"
حدیث میں ہے:"رِضَا اللَّهِ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ اللَّهِ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ" (ترمذی، حدیث: 1899)
ترجمہ: "اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔"
2. والدین کے ساتھ ادب اور نرمی سے پیش آنا:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا" (سورہ الإسراء: 23)
ترجمہ: "تو ان کو ‘اف’ تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے ادب کے ساتھ بات کرو۔"
حدیث میں ہے:"الكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ..."(بخاری، حدیث: 2654)
ترجمہ: "بڑے گناہوں میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی شامل ہیں۔"
3. والدین کے لیے دعا:قرآن مجید میں ہے: "وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا" ( الإسراء: 24)
ترجمہ: "اور کہو: اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا۔"
4. والدین کے دوستوں کاخیال:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ" (مسلم، حدیث: 2552)
ترجمہ: "سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔"
5.والدین کی ضروریات کا خیال رکھنا:حدیث میں ہے:"أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ" (ابن ماجہ، 2291)
ترجمہ: "تم اور تمہارا مال تمہارے والد کے ہیں۔"
6. والدین کی نافرمانی سے بچنا:حدیث میں ہے: "عقوق الوالدین من الكبائر" (بخاری: 5977)
ترجمہ: "والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔"
7. والدین کو تکلیف دینے کی ممانعت:حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إنَّ مِنَ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ والِدَيْهِ" (بخاری، حدیث: 5973)
ترجمہ: "بڑے گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَا أَطَلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى وَلَدٍ عَقَّ وَالِدَيْهِ بِلَيْلَةٍ، فَوُفِّقَ لَهَا، حَتَّى يُغْفِرَ لَهُ." (طبرانی)
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ اس شخص پر(شفقت کی) نظر نہیں ڈالتا جو رات کو والدین کی نافرمانی کرے جب تک وہ توبہ نہ کر لے۔"
8. والدین کو دینی معاملات میں بھی نرمی سے سمجھانا:قرآن مجید میں ہے:
"وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا"
(سورہ لقمان: 15)
ترجمہ: "اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی بات نہ مان، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ نیکی اور بھلائی کے ساتھ رہ۔"
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


