| 86648 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
والدین پر بچوں کے حقوق کیا ہیں؟
والدین اوراولاد کے حقوق
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس طرح والدین کے حقوق ہوتے ہیں،اس طرح والدین پر بھی اولاد کے حقوق ہیں،جن میں سے چند ذکر کیے جاتے ہیں:۔
1۔ماں کے پیٹ میں ہوتو اس کو ضائع کرنا،مارنا قتل کرنے کے مترادف ہے،اس لیے شریعت نے اس سے روک دیا ہے۔اس سے باقاعدہ دیت اور تاوان کا حکم نافذ کیا ہے۔
2۔غیرت کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنے کی ممانعت :
قرآن کریم میں ہے:
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO’’(الانعام:140)
واقعی ایسے لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علم (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بے شک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکے۔ ‘‘
3۔بھوک اور اَفلاس کے خدشہ سے اولاد کے قتل کی ممانعت :
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ.( الانعام، 6 : 151)
’’اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔‘‘
4۔کانوں میں اذان اور اقامت:بچہ جب پیدا ہوتا ہے تودائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے،یہ بچہ کا حق ہے۔
5۔ اچھا نام رکھنا: بچہ کا یہ حق ہے اُس کا پیارا سا نام رکھا جائےحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوبصورت نام رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إنکم تدعون يوم القيامة بأسمائکم و أسماء آبائکم، فأحسنوا أسمائکم.
’’روزِ قیامت تم اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے اس لیے اپنے نام اچھے رکھا کرو۔‘‘
6۔ رضاعت کا حق:پیدائش کے بعد بچہ کے لیے ماں کے دودھ کے علاوہ بوقت ضرورت دیگر چیزوں کا انتظام کرنا والد کے ذمہ ہے۔
7۔ پرورش کا حق: نابالغ بچے ہوں تو ان کانان نفقہ اور علاج وغیرہ کی ذمہ داری والد پر ہے۔
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ما من رجل تدرک له ابنتان، فيحسن إليهما ما صحبتاه أو صحبهما إلا أدخلتاه الجنة.
’’جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ انہیں جوان ہونے تک کھلاتا پلاتا رہے تو وہ دونوں اسے جنت میں لے جائیں گی۔‘‘
8۔اسلامی آداب سکھانا:بچوں کی تربیت مثلا ایثار،سخاوت،تواضع،صبروتحمل،توکل وغیرہ کاعادی بنانااوردھوکہ ،فریب،جھوٹ،بہتان وغیرہ رذائل سے بچنے کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے،اچھی تعلیم اور رزقِ حلال کا انتظام بچوں کاحق ہے۔حدیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کل مولود يولد علي الفطرة، فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه.
’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اُس کے ماں باپ اُسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘
بچوں کی اچھی تربیت کرکے انہیں اچھا، ذمہ دار اور مثالی مسلمان بنانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ ان کی تربیت کے
مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مروا أولادکم بالصلاة و هم أبناء سبع سنين، و اضربوهم عليها و هم أبناء عشر سنين، و فرقوا بينهم في المضاجع.
’’اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کی ہو جائے، اور جب وہ دس سال کی ہو جائے تو (نماز نہ پڑھنے پر) اُسے مارو، اور (دس سال کی عمر میں) انہیں الگ الگ سلایا کرو۔‘‘
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أکرموا أولادکم وأحسنوا أدبهم.
’’اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں ادب سکھاؤ۔‘‘
9۔شفقت و رحمت کا حق:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
قبل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الحسن بن علي رضي اﷲ عنهما، و عنده الأقرع بن حابس التميمي جالسا، فقال الأقرع : إن لي عشرة من الولد، ما قبلت منهم أحدا. فنظر إليه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، ثم قال : من لا يرحم لا يرحم.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کو چوما تو اَقرع بن حابس تمیمی جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، نے کہا : میرے دس بچے ہیں، میں نے تو کبھی کسی کو نہیں چوما۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، پھر فرمایا : جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


