| 86717 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
یا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک خاتون کی شادی 29 جولائی 1999ء کو ہوئی، اور ان کا حق مہر 5 تولہ سونا تھا۔ ابھی تک انہوں نے اس کی زکوة ادا نہیں کی ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر زکوة لازم ہے تو کتنی ادا کریں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرمذکورہ خاتون پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھی اور ذکر کردہ زیور سے 29 جولائی 1999ء کو صاحبِ نصاب بنی ہے، تو اسلامی لحاظ سے اس کی زکوة کی تاریخ 15ربیع الثانی1420 بنتی ہے۔ اس حساب سے 15ربیع الثانی1446 تک 26 سال بنتے ہیں، اور ان چھبیس سالوں کی زکوة دینا اس پر واجب ہے۔
مسئولہ صورت میں پانچ تولہ زیور سونے کے نصاب 7.5 تولہ سے کم ہے، لیکن چونکہ کچھ رقم خواتین کے پاس تاریخ زکوة میں عام طورپرہوتی ہے جو سونے کے ساتھ ملانے سے نصاب مکمل ہوجاتا ہے، تو اس لیےصورتِ مسئولہ میں گزشتہ سالوں کی زکوة کےوجوب کاقول احتیاطاً کیا جا رہا ہے۔
مسئولہ مسئلہ میں حرج کی وجہ سے یوم الاداء کے بجائے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق یوم الوجوب کی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے زکوة نکالنے کا طریقہ درج کیا جاتا ہے، جو درج ذیل ہے۔
پہلے15ربیع الثانی1421مطابق یع 29 جولائی 1999ء کو تین پانچ سولہ سونے کی قیمت سنار سے یا کسی اور ذریعہ سے معلوم کرکے اس کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ گزشتہ ایک سال کی زکوة اڑھائی فیصد کے حساب سے نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ پھر15ربیع الثانی1422مطابق 7جولائی 2001ءکو پانچ تولہ سولہ سونے کی قیمت معلوم کرکے پہلے اس سے سال سابقہ 1421 کی مقدار زکوة منفی کریں اور پھر باقی رقم کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ گزشتہ ایک سال کی زکوة اڑھائی فیصد کے حساب سے نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ پھر15ربیع الثانی1423مطابق 27جون 2002ء کو پانچ تولہ سولہ سونے کی قیمت معلوم کرکے پہلے اس سے سال سابقہ دو سالوں 1421، 1422 کی مقدار زکوة منفی کریں اور پھر باقی کو 40 پر تقسیم کریں تاکہ اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوة نکلے۔ جو نکلے اس کو ادا کر دیں۔ اسی طرح ہر سال اپنی اسلامی تاریخ 15ربیع الثانی کے لحاظ سے پانچ تولہ سونے کی قیمت معلوم کرتے جائیں اور سابقہ سالوں کی زکوة اس سے منہا کر کے باقی کو 40 پر تقسیم کرتے جائیں تاکہ اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوة نکلتی جائے۔ اس طرح آپ 15ربیع الثانی 1446 تک کرتے جائیں تاکہ گزشتہ چھ سالوں کی زکوة معلوم ہو سکے۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 125)
(قوله وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة) وكذا يضم بعضها إلى بعض وإن اختلف أجناسها (قوله وكذلك يضم الذهب إلى الفضة بالقيمة حتى يتم النصاب عند أبي حنيفة) كما إذا كان معه مائة درهم وخمسة مثاقيل قيمتها مائة درهم فعليه الزكاة عند أبي حنيفة خلافا لهما.
(قوله وقال أبو يوسف ومحمد لا يضم الذهب إلى الفضة بالقيمة ويضم بالأجزاء) كما إذا كان معه عشرة دنانير قيمتها خمسون درهما ومعه أيضا مائة درهم وجبت عليه الزكاة عندهما لكمال النصاب بالأجزاء وكذا عنده أيضا احتياطا لجهة الفقراء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303)
وفائدته تظهر فيمن له حنطة للتجارة قيمتها مائة درهم وله خمسة دنانير قيمتها مائة تجب الزكاة عنده خلافا لهما.
فتح القدير (2/ 219):
ثم قول أبي حنيفة فيه أنه تعتبر القيمة يوم الوجوب، وعندهما يوم الأداء، والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين وله ولاية منعها إلى القيمة فتعتبر يوم المنع كما في منع الوديعة وولد المغصوب، وعنده الواجب أحدهما ابتداء ولذا يجبر المصدق على قبولها فيستند إلى وقت ثبوت الخيار وهو وقت الوجوب.
(درر الحكام شرح غرر الأحكام : (ص:2،ص: 355
والخلاف في زكاة المال ،فتعتبر القيمة وقت الأداء في زكاة المال على قولهما، وهو الأظهر. وقال أبو حنيفة: يوم الوجوب كما في البرهان .وقال الكمال: والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين، وله ولاية منعها إلى القيمة ،فيعتبر يوم المنع كما في منع رد الوديعة ،وعنده الواجب أحدهما ابتداء ،ولذا يجبر المصدق على قبولها.
{وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78]
"إذا كانت مقدار الزكاة بناءً على سعر الذهب الحالي مرتفعة لدرجة أن دفعها يتسبب في صعوبة شديدة وضيق، فيجوز دفع الزكاة بناءً على سعر الذهب في السنة التي عليها الزكاة. كما ورد في باب فتاوى دار العلوم كراتشي: رقم الفتوى: 24/1665."
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲۷/۷/۱۴۴٦ھ
والدہ مرحومہ گزشتہ 25سال سےزکوۃ ادا نہیں کرسکی توکیاحکم ہوگا؟
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


