| 86752 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں احسن نواز ولد محمد نواز نے فاطمہ مظہر سے نِکاح کیا۔نکاح کے بارے میں نہ میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور نہ لڑکی کے گھر والوں پتہ تھا۔ ہم دونوں نے ایک ہوٹل میں یہ تقریب کی جس میں دو گواہ اور ایک حافظ صاحب موجود تھے۔ حافظ صاحب نے خطبے سے آغاز کیا اور پھر ہم سے پوچھا تین بار کے آپ کو یہ نِکاح قبول ہے؟ ہم نے اِقرار کیا اور پھر دعا سے اس تقریب کو ختم کیا گیا۔ اس کے پانچ ماہ بعد جب لڑکی کے گھر والوں کو پتا چلا تو لڑکی کے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر مجھ سے طلاق لکھوا لی ،میں نے زبان سے طلاق نہیں دی، طلاق نامے کے الفاظ یہ تھے ’’میں احسن ولد نواز ،فاطمہ مظہر کو بغیر کسی دباؤ کے طلاق دیتا ہوں۔ طلاق دیتا ہوں۔ طلاق دیتا ہوں‘‘۔ لیکن میرے اوپر دباؤ تھا، دباؤ اس صورت کا تھا کہ انہوں نے کہا یا تو تمہیں گولی مار دیں گے یا پھر تمہارے گھر والوں کو مار دیں گے۔اس لیےجو بات میں کہتا ہوں تمہیں ماننی ہو گی۔طلاق سے پہلے ہماری ملاقات ایک دن ایک گھر میں ایسے ہوئی کہ میں لڑکی کے گھر گیا اور میرا ٹائم مقرر نہیں تھا کہ میں اِتنا وقت کے لیے جارہا ہوں۔ وہاں پر ہم ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے ، گھر میں کسی بھی وقت لڑکی کی امی آسکتیں تھیں اور مجھے وہاں سے پھر واپس نکلنا تھا۔ میں گیا صرف کچھ دیر کے لیے تھا اورکسی بھی وقت اُس کی امی آسکتی تھی اور کرتے کرتے ہم نے تقریبا دو گھنٹے ساتھ گزارے لیکن کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا اور میں واپس آگیا، اب آپ سے کچھ سوالات ہیں:
- کیا ہمارا نِکاح ہوا ہے؟
- اگر نِکاح ہوگیا ہےتو کیا ہماری ملاقات سے خلوت صحیحہ ہوگئی ہے؟
- کیا طلاق ہوگئی ہے ؟ اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئیں ہیں ؟
- اس صورت میں عِدّت کا کیا حکم ہے؟
تنقیح: سائل نے بتا یا کہ لڑکے اور لڑکی کا خاندان ایک ہے اور دونوں کی دین داری بھی ایک جیسی ہے۔ طلاق لکھتے وقت نہ تو لڑکے کی نیت تھی اور نہ اس نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے ہیں۔
تین طلاق لکھنے سے بھی واقع ہوجاتےہیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1) وضح رہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دو معتبر گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے ،لیکن گھر والوں سے چھپ کر اس طرح نکاح کرنا شرعا اور اخلاقا مذموم ہے اور نبی اکرم ﷺ نے نکاح کو کھلے عام کرنے کا حکم دیا ہےاور چپکے سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر لڑکا اور لڑکی نے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیا ہے ،تو ان دونوں کا نکاح منعقدہوگیا ہے۔
2) واضح رہے کہ خلوتِ صحیحہ سے مراد یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں ایسی جگہ میں تنہا جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع نہ ہو، اگرچہ ایسی تنہائی کے باوجود ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ نے دو گھنٹے اپنی منکوحہ کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں ایسے گزارے ہیں کہ کسی کی آمدورفت کا امکان تھا اور لڑکی کی والدہ کسی بھی وقت آ سکتیں تھیں اس لیے خلوت صحیحہ نہیں ہوئی ۔
3) سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً آپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی اور آپ کو یقین ہے کہ اگر آپ لڑکی کے گھر والوں کی بات پر عمل نہ کرتے تو وہ آپ کو یا آپ کے گھر والوں کو جان سے مار دیتے، اور لڑکی کے گھر والوں نے آپ کو طلاق کے الفاظ لکھنے پر مجبور کیا تھا تو اس صورت میں بغیرنیت کے طلاق کے الفاظ لکھنے اور دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
4) طلاق واقع نہ ہونے کی وجہ سے منکوحہ پر کوئی عدت نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص178):
(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الاصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 236):
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق
لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية،
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص601):
(و) الثالث: (كون الشئ المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا عما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه
وهو يختلف باختلاف الاشخاص، فإن الاشراف يغمون بكلام خشن، والاراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 304):
والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
02/شعبان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


